اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 405 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 405

405 مگر پھر گاؤں میں طاعون ہو اتھا۔( قلمی کا پی صفحہ ۶۹ تا۷۳ ) منشی صاحب نے بواسطہ مولوی محب الرحمن صاحب بیان کیا کہ ۱ - روڈ امڈ کوران پڑھ ، سادہ مزاج اور خاموش طبع تھا۔مزار عین کی شرارتوں کے وقت ان سے الگ رہتا اور ان کو سمجھاتا تھا۔فرشتہ کے اس پیغام کے واقعہ کے بعد میں نے اس کو بہت سی تصاویر دکھائیں۔ہر تصویر دیکھ کر کہتا کہ شکل ایسی نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کہ اس نے شناخت کر لیا اور کہا یہ یہی تھے۔دوسری دفعہ کی طاعون کے وقت حاجی پور میں ہمارا واحد گھرانہ تھا جو بکلی محفوظ رہا اور اس گاؤں میں یہی واحد احمدی خاندان آباد تھا۔۲- حاجی پور کے ہر چہار طرف کی ملحقہ آبادیوں میں اس شدت سے طاعون نمودار ہوئی کہ الامان دالحفیظ! روزانہ بے شمار اموات ہوتیں۔کئی گھر بالکل خالی ہو گئے۔ان آبادیوں قبرستانوں اور مرگھٹوں میں تدفین اور جلانے کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہی۔اس لئے نئے قبرستان اور مرگھٹ قائم کئے گئے جو حاجی پور کی ہر چہار حدود کے ملحق تھے۔دن رات رونے پیٹنے اور جزع فزع کرنے کی دل شگاف آواز میں مضطرب کرتی تھیں۔کثرت اموات کا یہ حال تھا کہ قبرستان میں چھ چھ لاشوں پر یکجائی طور پر نماز جنازہ ادا کی جاتی تھی۔* محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ آپ کے محبوں کی عمر میں برکت عطا کرے گا اور جماعت کپورتھلہ کے قریباً تمام صحابہ نے لمبی عمریں پائیں۔راقم نے ان تمام صحابہ کو دیکھا ہے اور ان کی عمروں میں برکت کا پایا جانا اس امر سے اور بھی نمایاں اور ا ہم ہو جاتا ہے کہ ۱۹۰۰ء کے بعد طاعون کی وبا ملک میں پھیلی۔کپورتھلہ میں بھی اس وبا نے بہت شدت اختیار کی مُردے اٹھانے اور کفن دفن کے لئے آدمی مشکل سے ملتے تھے۔روزانہ کثیر اموات ہوتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ آپ کے بچے مرید طاعون سے محفوظ رہیں گے۔(یہ) تمام صحابہ (بشمول منشی حبیب الرحمن صاحب ) اس وبا کے اندر موجود تھے۔خدا کے فضل نے سب کو محفوظ رکھا۔ان کے اردگر درہنے والے کثرت سے طاعون کا شکا ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت اور شان ہے کہ کپورتھلہ کی جماعت میں ہر فرد محفوظ رہا کسی کا کان بھی گرم نہ ہوا والله غالـب عـلـى امره ولكن اكثر الناس مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب میں روڈا والا واقعہ درج ہے۔دیکھیئے احکام ۲۱ اگست ۱۹۳۵ صفحه ۸ کالم۲ ۳) - شیخ عبدالرحمن صاحب کی طرف سے روڈ اوالا سارا واقعہ الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۵۵ء ( صفحہیہ ) میں شائع ہوا۔