اصحاب احمد (جلد 10) — Page 407
407 ترجمہ: نہ کھڑے ہو اور نہ بیٹھو مگر اس کے ساتھ۔نہ اتر و کسی جگہ میں مگر میرے ساتھ۔میں تیرے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔حضور نے ۲۲ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو صبح آٹھ بجے مع اہل بیت قادیان سے روانہ ہونے سے پہلے رات کا رویا سنایا کہ ” دہلی گئے ہیں تو تمام دروازے بند ہیں۔پھر دیکھا کہ ان پر قفل لگے ہوئے ہیں۔پھر دیکھا کہ کوئی شخص کچھ تکلیف دینے والی شے میرے کان میں ڈالتا ہے۔میں نے کہا تم مجھے کیا دکھ دیتے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ دکھ دیا گیا تھا۔(۶۵) قافلہ ایک رتھ اور سات یکوں میں روانہ ہوا۔اور حضور کے حکم اور اجازت سے چند خدام بھی ساتھ تھے۔بخار کی وجہ سے چند روز سے مفتی محمد صادق صاحب (ایڈیٹر بدر ) بیمار تھے لیکن حضور نے فرمایا کہ چلے چلو۔تبدیلی آب و ہوا سے فائدہ ہوتا ہے۔چنانچہ وہ بھی ساتھ روانہ ہوئے۔شیخ یعقوب علی صاحب ( عرفانی ایڈیٹر الحکم ) کو ایک روز پہلے گاڑی کی ریز رویشن وغیرہ کے لئے بٹالہ بھیجا گیا تھا جو بٹالہ میں ساتھ شامل ہو گئے۔خدام ذیل بھی شامل ہوئے: مولوی سید محمد احسن صاحب سیٹھ عبدالرحمن صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ،مولوی عبدالرحیم صاحب میرٹھی ، خلیفہ رجب الدین صاحب لاہوری ، شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم ، حافظ حامد علی صاحب اور با بونو رالدین صاحب کلرک ڈاکخانہ۔قیہ حاشیہ: چونکہ نیر صاحب کی بیعت و زیارت ۱۹۰۱ء کی ہے (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ہشتم۔ضمیمہ صفحہ ۵۱) اس لئے ان کی بیعت و زیارت سے قبل کا حضور کا یہ بیان نہیں ہوسکتا اگر حضور نے ایک ہی بار یہ پیشگوئی بیان فرمائی ہو۔بہر حال انہوں نے بیعت کے بعد ہی یہ بات حضور سے سنی گورداسپور میں۔۳- حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب امام مسجد محله دار لفضل قادیان آنکھوں سے نابینا تھے وہ گورداسپور جا کر کوئی بات سن نہیں سکتے تھے۔ان کی بیعت و زیارت ( مطابق تاریخ احمدیت جلد ہشتم۔ضمیمہ صفحہ ۴۴) ۱۹۰۰ ء کی ہے۔وہ یہ بات ۱۹۰۴ء میں مسجد مبارک میں سنتا بیان کرتے ہیں (الفضل ۷ ارجولائی ۱۹۴۷ صفحہ ۳ ) ( دیکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔خاکسار کے محلہ دارالفضل میں امام مسجد تھے بہت دفعہ بطور درس روایات بیان فرماتے تھے ) اس لئے یہ روایت بہر حال ۱۹۰۱ء یا بعد کے عرصہ کی ہے۔یا اس وقت بھی بیان ہوئی ہے۔۴- مکرم امیر صاحب ساکن کو ٹلی ضلع میر پور (جموں) نے جموں میں جن دو صحابہ میں سے کسی ایک سے یہ روایت ۶ / اپریل ۱۹۴۱ء کوسنی اور یہ تاریخ نوٹ کی اس صحابی نے کہا کہ یہ روایت ۱۹۰۳ء کی ہے۔(الفضل یکم جولائی ۱۹۴۷ء صفحہیہ )