اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 351 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 351

351 حضرت اقدس کی فراست کا ایک اور واقعہ حاجی محمد ولی اللہ صاحب کا انتقال منشی حبیب الرحمن صاحب بیعت کر کے لدھیانہ سے آنے کے بعد کے عرصہ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فراست کا ایک واقعہ یوں رقم کرتے ہیں: مولوی احمد علی صاحب مرحوم سہارنپوری جو ایک نیک آدمی تھے،حضرت مولوی حاجی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول۔۔۔اکثر ان کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے اور تعریف کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ ایک یا چند احادیث بخاری شریف غالباً سمجھنے کی غرض سے بہ ہیئت سادہ میں سہارنپور مولوی احمد علی صاحب کے پاس گیا وہ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے۔جس وقت میں گیا مولوی صاحب نہ تھے لیکن ان کے ایک فرزند تھے اور ایک اور شخص ان کے پاس بیٹھا تھا۔میں نے دریافت کیا تو انہوں نے لا پرواہی سے جواب دیا کہ زنانہ مکان میں گئے ہیں۔میں ایک طرف کو بیٹھ گیا۔وہ مولوی صاحب جو ان کے فرزند تھے طبیب بھی معلوم ہوتے تھے۔وہ شخص جو ان کے پاس تھا۔ان سے ایک نسخہ خاص مانگ رہا تھا۔اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس نسخہ کا دیر سے طالب تھا۔اور مولوی صاحب ان کو ٹالتے رہتے تھے۔اس دن اس نے بہت منت ( کی ) مگر مولوی صاحب ٹالتے ہی رہے مگر ساتھ وعدہ کرتے رہے۔اس کے منت کرنے پر مجھے رحم آیا میں نے اس شخص سے کہا کہ اگر آپ کہیں تو وہ نسخہ میں آپ کو لکھدوں مگر اس نے کہا کہ میں تجھ سے نہیں لکھوا تا اور پھر منت شروع کی۔میں نے کاغذ پنسل نکال کر نسخہ لکھا اور اس شخص کی طرف ڈال دیا اور کہا کہ آپ نہ لکھا ئیں لیکن ہم نے تو ضرور لکھنا ہے۔اس پر مولوی صاحب نسخہ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے۔اتنے میں مولوی احمد علی صاحب تشریف لے آئے گو وہ میرے واقف نہ تھے۔لیکن بہت محبت اور عزت سے ملے اور مصافحہ کے ساتھ ہی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بیٹھا لیا۔اور معمولی باتوں کے بعد میرے آنے کا مقصد دریافت کیا۔میں نے بخاری شریف کی ان احادیث کے متعلق دریافت کیا اور ان کے متعلق ( انہوں نے ) میرا اطمینان کر دیا۔میں نے اجازت چاہی لیکن انہوں نے کئی دن بعد مجھے اس طرح رخصت کیا کہ ایک نسخہ قلمی بخاری شریف کا لائے اور مجھے دیا کہ مجھے خیال تھا کہ میری اولاد میں سے تو اس کے رکھنے ( کی ) قابلیت کوئی نہیں بقیہ حاشیہ: تھا محبوب موصوف منشی صاحب کا ہاں کھانا کھاتا تھا اس قرب و تعلق کی وجہ سے ان کا بیان ہی قابل قبول ہے۔چونکہ ۱۸۹۱ء میں بیعت کے بعد محبوب نے جلد وفات پائی اور منشی کظیم الرحمن صاحب کی ولادت ۱۸۹۳ء کی ہے اور ہوش کی عمر بہت سال بعد میں شروع ہوئی۔انہوں نے جو بیان کیا وہ عینی شہادت پر مبنی نہیں۔