اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 350 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 350

350 امیروں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور امیروں ہی سے زیادہ کلام کرتے ہیں۔اور اپنی موت سے پہلے کئی دفعہ اس نے بیت و یا ور پھر ان ہی اللہ کریم کو علم ہے کہ اس کی موت کس حالت میں ہوئی لیکن ظاہری حالات مشکوک ہی نظر آتے ہیں، (قلمی کا پی صفحه ۴ و ۴۵) * (الف) رجسٹر بیعت میں ان تینوں کی بیعت کا اندراج ایک ہی روز یعنی ۲۵ مارچ ۱۸۹۱ء میں ہے۔گویا فوری طور پر اندراجات رجسٹر بیعت میں نہیں ہے۔یہ اندراجات رجسٹر بیعت میں زیر نمبر ۲۱۹ تا ۲۲۱ علی الترتیب یوں ہیں :- د منشی حبیب الرحمن برادا زادہ حافظ حاجی ولی اللہ صاحب اصل سکونت سراوہ ضلع پر گنه وار د حال کپورتھلہ (پیشہ وغیرہ) حال خانه نشیں پیشہ ملازمت ”میاں روشن دین ولد غلامی ساکن کپورتھلہ (پیشہ وغیرہ) خانه نشیں“ محبوب عالم درویش نو عمر بعمر ہفتند و سالہ ولد بڈھے شاہ ساکن کپورتھلہ (پیشہ وغیرہ) خانه نشیں (باء) مندرجہ ذیل امور کی تصحیح کا ذکر کیا جاتا ہے۔۱- حیات احمد جلد سوم ( صفحہ ۴۳ حاشیہ) میں درج ہے۔کہ منشی اروڑے خاں صاحب، منشی ظفر احمد صاحب ہمنشی محمد خاں صاحب اور منشی حبیب الرحمن صاحب کی بیعت ایک ہی روز ہوئی تھی۔یہ ہو ہے۔تصحیح شہادت ذیل سے ہوتی ہے۔قلمی بیان منشی حبیب الرحمن صاحب مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب منشی ظفر احمد صاحب میں مرقوم ہے کہ منشی حبیب الرحمن صاحب نے بیعت حضرت اقدس کے دعوی مسیحیت کے بعد کی تھی (الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم او۲ ) اور جسٹر بیعت کے اندراجات۔دیگر بزرگوں نے بیعت کے اولیں روز بیعت کی تھی۔محولہ بالا مضمون منشی تنظیم الرحمن صاحب میں یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ منشی حبیب الرحمن صاحب کی بیعت تک غالباً اسی یا اس سے کم افراد بیعت کر چکے تھے۔یہ سہو ہے۔تصحیح اس سہو کی نمبر بیعت احباب مذکورین کے اندراجات سے ہوتی ہے۔جو او پر درج ہو چکے ہیں۔محولہ بالا مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب میں روشن دین اور محبوب دونوں کے ارتداد کا ذکر ہے۔یہ ہو ہے۔تصحیح قلمی کا پی منشی حبیب الرحمن صاحب کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ صرف روشن دین مرتد ہوا