اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 352 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 352

352 رکھتا۔میں چاہتا تھا کہ ایسے شخص کو دوں جو اس کے رکھنے ( کا) شائق ( ہو ) اور قابلیت رکھتا ہو اور یہ بات میں آپ کے اندر پاتا ہوں۔اس کے بعد میں رخصت ہوا۔ان مولوی صاحب کا نام جو مولوی احمد علی صاحب کے فرزند تھے ، حبیب الرحمن تھا۔اور ان دنوں میں جس کا تذکرہ میں کر رہا ہوں۔(وہ) مدرسہ عربی اسلامیہ میں مدرس اول تھے۔چونکہ وہ طبیب بھی تھے ، ہمارے ایک رشتہ دار نے لکھا کہ اگر اجازت دو تو میں ان کو حضرت قبلہ حاجی ( ولی اللہ ) صاحب کے علاج کے لئے بھیج دوں میں نے ان کو بھیجنے کے واسطے لکھا اور وہ آگئے ، بظاہر بہت خلیق تھے۔انہوں نے علاج شروع کر دیا ہم نے حضرت صاحب کے دعوی کے متعلق بھی ان سے گفتگو شروع کر دی۔مولوی صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کا اشتیاق ظاہر کیا ہم بھی یہ ہی چاہتے تھے ان کی رخصت ختم ہوئی تو انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا کہ بعد حصول رخصت اور دوسرے کاموں سے فارغ ہو کر میں جلد واپس آ جاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لو دیا نہ میں ہی تھے۔ہم نے ان کو راستہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں چند گھنٹہ کے لئے اترنے کے لئے کہا جو انہوں نے شوق کے ساتھ منظور کیا۔جب وہ روانہ ہوئے تو بندہ خاکسار اور منشی ظفر احمد صاحب بھی لود یا نہ تک ساتھ ہوئے اور حضرت صاحب سے ملایا - ۵-۶ گھنٹہ وہ حضرت صاحب کے پاس رہے حضرت نے ان کے سامنے اپنا دعوای کھول کر مع دلائل کے جو اس وقت تک پیدا کر چکے تھے، بیان فرمائے۔وہ ہر ایک بات کو منظور اور قبول کرتے رہے۔اور آپ کی بات کی تصدیق کرتے رہے۔ایک ایسے عالم کا مصدق بن جانا ہماری خوشی کا باعث ہوا۔ان کی عدم موجودگی میں میں نے عرض کیا کہ حضور ! یہ مولوی صاحب تو مانتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ یہ بالکل نہیں مانتے۔ایک ایسا عالم اور فاضل ہو اور یہ دعوای سن کر ایک اعتراض بھی نہ کرے بلکہ جو بات بھی پیش کی جاوے بلا کسی تردید اور بحث کے مان لے ایسا نہیں ہوسکتا۔یہ منافقانہ حالت ہے۔ابتدائی زمانہ تھا اور ایمان کا معاملہ تھا میں نے اور منشی ظفر احمد (صاحب) نے آپس میں کہا کہ یہ تو بد گمانی ہے۔مولوی صاحب نے صاف الفاظ میں تصدیق کی ہے۔غرض ہم کپورتھلہ چلے آئے اور مولوی صاحب بھی ایک دو یوم کے بعد سہارنپور سے کپورتھلہ پہنچ گئے۔مولوی صاحب کو اسی مکان میں ٹھہرایا ہوا تھا۔جہاں میری نشست تھی۔مولوی (صاحب) ہمارے سامنے حضرت صاحب کی بے حد تعریف کرتے تھے۔اور دعوی کو بالکل تسلیم کرتے تھے۔غیر احمدی بھی مولوی صاحب کے پاس آ کر بیٹھا کرتے تھے۔ہم کو معلوم ہوا کہ مولوی صاحب ہمارے سامنے تو حضرت صاحب کی تصدیق اور تعریف کرتے ہیں لیکن ہماری غیر موجودگی میں غیر احمدیوں کے ہم خیال ہو کر برا ( بھلا) کہتے ہیں۔اور