اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 277 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 277

277 رَسُولُ اللَّهِ۔اَلصَّلَوةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَانَبِی اللَّهُ پڑھتا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی اس طرف چشم مبارک اٹھا کر دیکھتے اور آپ کے چہرہ مبارک سے بشاشت مترشح ہوتی تھی۔“ (122) ۸۰۔( از مولانا صاحب موصوف )۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ:۔رسالة تشحيذ الاذہان کے اجراء کے وقت بطور ایڈیٹوریل حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا مضمون شائع ہونے پر مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم تو خیال کرتے تھے کہ یہ سلسلہ (حضرت ) مرزا صاحب ( مسیح موعود ) کی زندگی تک ہی رہے گا۔مگر یہ مضمون پڑھ کر معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کا لڑکا اس گدی یادکان) کو اچھی طرح چلائے گا۔جب اس کا ذکر حضرت مسیح موعود سے کیا گیا۔تو حضور علیہ السلام نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھا ( اور زبانی کچھ نہ فرمایا۔ایسا معلوم ہوتا تھا) گویا کہ آپ کے لئے دعا فرمارہے ہیں خاکسار بھی اس مجلس میں حاضر تھا۔“ ( حیات بقا پوری حصہ دوم صفحه ۱۰۵) جو ۱ - ( از مولانا صاحب موصوف ) جلسه سالانه ۱۹۰۶ء پر مکرم میر حامد شاہ صاحب چوہدری نصر اللہ خاں صاحب حافظ مولوی محمد فیض الدین صاحب ، خاکسار اور جماعت سیالکوٹ کے بعض احباب حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے۔میر حامد شاہ صاحب نے ایک تھیلی روپوں کی نذرانے میں پیش کی حضور علیہ السلام نے تحصیلی اپنے دست مبارک میں لئے ہوئے فرمایا۔الحمد للہ اور پھر فرمایا۔جزاکم اللہ “ (صفحہ ۱۰۷) ۲۔محترم ڈاکٹر عطر الدین صاحب کا نام “ جنازہ حضرت مسیح موعود اور اہل بیعت حضور کے ساتھ لاہور سے ریل گاڑی میں بٹالہ تک آنے والی مختصر فہرست میں موجود ہے۔(123) ☆☆ حضور ۲۷ اپریل ۱۹۰۸ء کو آخری قیام لاہور میں میں صبح و شام دو وقت حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔وفات سے ایک روز پہلے یعنی ۲۵ مئی کو عصر کی نماز میں حضور نے شرکت فرمائی۔جب حضور بعد نماز اندرون خانہ تشریف لے جانے لگے تو چونکہ اس وقت مجھے حضور میں بہت زیادہ کشش اور جاذبیت محسوس ہوئی تھی۔ہے دل کرتا تھا کہ حضور سے لپٹ جاؤں۔تا ہم حضور آخری بار مغرب سے پہلے سیر کے لئے گئے۔اس پہلے میں نے خطوط وحدانی میں مولانا صاحب کی روایت مندرجہ سیرۃ المہدی سے اضافہ کیا ہے۔(روایت نمبر ۶۵۲) ے حضور کی آخری تقریر جو حضور نے ۲۵ مئی کو قبل عصر فرمائی تھی۔درج کرتے ہوئے حضرت بھائی بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر