اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 278 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 278

278 نیچے سے حضور کو دیکھا کہ احمد یہ بلڈنگ میں چھت پر ٹہل کر مضمون لکھ رہے ہیں۔حضور کی مبارک زندگی میں میری یہ آخری زیارت تھی۔۲۶ مئی کو میں حسب معمول صبح آیا تو مخالفین سلسلہ کو احمد یہ بلڈنگکس کے قریب نگ انسانیت حرکات کرتے دیکھا تب مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا وصال ہو چکا ہے۔إِنَّ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اندر جا کر دیکھا تو حضور کے جسم مبارک پر چادر ڈالی ہوئی تھی۔میں نے حضور کی پیشانی پر بوسہ دیا۔اور پھر جنازہ کے ہمراہ ریل میں بٹالہ تک اور بٹالہ سے قادیان تک پیدل آیا اور جنازہ کو کندھا دینے کا موقع بھی ملا۔اور حضرت خلیفہ اول کی اولین بیعت میں شریک ہوا۔حضرت مسیح موعود کی نعش مبارک کی آخری بار زیارت کی اور تدفین میں شرکت کی۔۳ - ( از مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری) ” غالباً ۱۹۰۶ء کے سالانہ جلسے کے موقع پر آپ نے اپنی وفات کا ذکرتے ہوئے فرمایا:۔”میری موت اب قریب ہے اور میں جب اپنی جماعت کی حالت کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس ماں کی طرح غم ہوتا ہے جس کا دو تین دن کا بچہ ہو اور وہ مرنے لگے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے پر مجھے کامل یقین ہے۔کہ وہ میری جماعت کو ضائع نہیں ہونے دیگا۔یہ ایک دل کا اطمینان ہے۔“ ( 124 ) اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد ط تَمَّت بالخَير بقیہ حاشیہ:۔عبدالرحمن صاحب قادیانی تحریر کرتے ہیں۔کہ:۔دوران تقریر میں آپ کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہو گیا تھا کہ نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔حضور کی تقریر میں ایک خاص اثر اور جذب تھا۔رعب ، ہیبت اور جلال اپنے کمال عروج پر تھا۔(الحکم ۱۸/۷/۰۸ صفحہ۸)