اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 275 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 275

275 رات جولدھیانہ سے تار آیا ہے اس میں مولوی سعد اللہ کی موت کا ذکر ہے۔جو اچانک اس کو طاعون ہو کر واقع ہوئی۔پھر مولوی محمد علی صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا:۔مولوی صاحب ! خواجہ صاحب کو لکھو کہ آپ تو لکھتے تھے کہ اس حاشیہ کو کاٹ ڈالو۔لیکن اب تو اللہ تعالیٰ اس کے متعلق کچھ اور لکھانا چاہتا ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام نے تمہ حقیقۃ الوحی میں دوبارہ اس نشان کو تشریح سے بیان فرمایا ہے۔(الحکم ۲/۳۵/ ۲۸ صفر ۴۳) ۷۷۔( از مولانا صاحب موصوف ) ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر حضرت صاحب کی تقریر کرنے کے لئے منبر مسجد اقصیٰ کے صحن میں اندر کی طرف دیوار کے ساتھ رکھا گیا۔شیخ مولا بخش صاحب بوٹ فروش سیالکوٹی نے جو بعد میں غیر مبائع ہو گئے۔حضرت صاحب سے اس وقت عرض کیا جب حضور" منبر پر تشریف فرما ہوئے کہ حضور خواجہ صاحب وغیرہ دوست مسجد کے صحن کی مشرقی دیوار کے پاس ہیں ( گویا زیادہ لوگ باہر ہیں ) اس لئے منبر کو صحن میں آگے کی طرف رکھنا چاہئے تا کہ ان کو بھی آواز پہنچے۔حضرت مسیح موعود نیچے اتر آئے۔تاکہ منبر آگے کر کے رکھا جائے اس پر ان دوستوں میں سے جو مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ایک نے کہا کہ اگر صحن میں آگے کر کے ممبر رکھا گیا تو اندر والے دوستوں کو جن میں چوہدری نصر اللہ خانصاحب بھی ہیں آواز نہیں آئے گی۔اس لئے یہاں ہی منبر رکھا رہنا چاہئے۔اس پر حضرت مسیح موعود پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے۔جوں ہی آپ بیٹھے تھے کہ پھر شیخ مولا بخش صاحب نے دوبارہ کہا کہ نہیں حضور ! مسجد کا اندر نزدیک ہے۔منبر کو آگے کرنے سے بھی اندر والے دوستوں کو آواز پہنچتی رہے گی۔اس پر حضور پھر اتر پڑے۔اس بارہ میں سیرۃ المہدی میں مولوی صاحب کی روایات ۷۴۳٬۳۸۷ دروایات مندرجہ حیات بقا پوری حصہ دوم صفحہ ۹۸، ۹۹ سے خطوط وحدانی والے الفاظ درج کئے گئے ہیں روایت ۳۸۷۔پر مولف سیرۃ المہدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب زاد مجددہ تحریر فرماتے ہیں:۔خواجہ صاحب نے از راہ ہمدردی اپنی رائے پر اصرار کیا ہوگا کہ مبادا یہ بات شماتت اعداء کا موجب نہ ہو جائے۔مگر ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے صرف ایک قانون دان کی حیثیت میں غور کیا اور اس بات کو نہیں سوچا کہ خدائی تصرفات سب طاقتوں پر غالب ہیں۔نیز فرمایا :۔”اب سعد اللہ کا لڑکا بھی لا ولد مر چکا ہے۔“