اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 274 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 274

274 مشکل کھڑے ہو سکتے۔حسن اتفاق سے میں بھی اس وقت حاضر خدمت ہو گیا۔خواجہ صاحب نے کہا کہ حضور! آپ نے جو سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق حقیقۃ الوحی کے حاشیہ پر ( تحدی سے ) لکھا ہے کہ اس کا بیٹا جو ۲۲ سال کا ہو چکا ہے وہ نامرد ہے۔حضور اس حاشیہ کو کاٹ ڈالیں۔کیونکہ اگر سعد اللہ نے مقدمہ کر دیا۔تو پھر اس کے بیٹے کا نامرد ثابت کرنا مشکل ہوگا۔(اس کا ثبوت ہمارے پاس کوئی نہیں ) حضور علیہ السلام نے فرمایا۔کہ میں نے خدا تعالیٰ کی مرضی سے لکھا ہے میں اس کو نہیں کاٹوں گا خواجہ صاحب نے کہا کہ حضور نے یہ کوئی الہام سے تو نہیں لکھا۔حضور نے فرمایا:۔خدا تعالیٰ کی سنت میرے ساتھ یوں ہے کہ جو اس کے منشاء کے برخلاف ہواس سے وہ مجھے روک دیتا ہے۔اس حاشیہ کے لکھنے سے چونکہ اس نے مجھے روکا نہیں۔لہذا اس کی منشاء اور مرضی ہے۔خواجہ صاحب نے پھر کہا کہ حضور مجھے تو بہت ہی گھبراہٹ رہے گی۔جب تک آپ اس کو کاٹیں نہیں۔حضور علیہ السلام نے (مسکراتے ہوئے ) جواب میں فرمایا۔اگر سعد اللہ مقدمہ کر یگا تو ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم آپ کو وکیل نہیں بنائیں گے۔اس پر وہ خاموش ہو گئے۔لیکن ان کے جانے کے بعد تیسرے دن جب حضرت مسیح موعودؓ بمعہ خدام سیر کو تشریف لے جارہے تھے تو مولوی محمد علی صاحب نے حضور سے عرض کی کہ خواجہ صاحب کا لاہور سے خط آیا ہے کہ رات مجھے نیند نہیں آئی۔کہ اگر سعد اللہ نے دعویٰ کر دیا۔تو پھر اس کو ثابت کرنا مشکل ہے چین کی دو ہی صورتیں ہیں کہ حضرت صاحب اس حاشیہ کو کاٹ ڈالیں یا پھر سعد اللہ مر جائے۔حضور علیہ السلام نے سن کر فرمایا۔کوئی تعجب نہیں کہ سعد اللہ جلد ہی مرجائے۔“ دوسرے دن جب حضور سیر کیلئے تشریف لائے۔تو سیڑھیوں پر سے اترتے ہی گول کمرے کے پاس مجھے فرمایا۔مولوی صاحب (خلیفہ اول) کو بلا لاؤ۔راستہ میں فرمایا :۔آج مجھے الہام ہوا ہے۔رَبَّ أَشْعَثَ اَغْبَرَ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَابَرَّهُ۔۔۔۔( 121 )۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بہت سے خدا کے بندے غبار آلودہ جسم والے اور پراگندہ بالوں والے لوگوں کی نظروں میں معمولی ہیں لیکن خدا کے نزدیک ان کا اتنا مرتبہ ہے کہ اگر اپنے بھروسے پر کوئی لفظ زبان سے نکالیں تو خدا ان کو پورا کرتا ہے۔اس الہام کے بعد فرمایا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ سعد اللہ کی موت کے متعلق ہے جو کل ہم نے بیان کیا تھا۔تیسرے دن جب پھر حضور سیر کے لئے تشریف فرما ہوئے تو خاکسار کو ہی حضرت خلیفہ اول کو بلانے کے لئے بھیجا راستہ میں آپ نے فرمایا:۔