اصحاب احمد (جلد 10) — Page 271
271 تشریف لایا کرتے تھے۔جب حضرت صاحب نماز کے لئے تشریف لائے۔تو چونکہ منشی عطا محمد خاں بالکل کھڑ کی کے آگے بیٹھے ہوئے تھے غلطی سے حضرت صاحب کا پاؤں منشی عطا مجمد خاں کے دائیں پاؤں پر انگوٹھے کے اوپر پڑا معاً ان کا پاؤں اچھا ہو گیا۔اور درد جاتا رہا۔چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر لکڑی کے سہارے چلتے ہوئے مہمانخانہ میں واپس آئے دوسری نماز میں یعنی عصر کے وقت پھر کھڑکی کے آگے بیٹھ گئے اور جب حضرت صاحب تشریف لائے تو اپنا دوسرا پاؤں آگے کر دیا اور عرض کیا۔حضور ! میرے پاؤں پر پاؤں رکھیں۔“ دو میرے روایت بالا لکھ کر بھجوا کر عرض کرنے پر کہ اسے مکمل فرما دیں حضرت ماسٹر صاحب نے تحریر فرمایا کہ:۔یہ سارا واقعہ ایک ہی نماز عصر کے وقت کا ہے حضرت صاحب کے کھڑکی کے راستہ واپس ہونے پر منشی عطا محمد صاحب نے دوسرا پاؤں بھی آگے رکھ دیا۔اور جب نماز سے واپس آئے مہمان خانہ تو دونوں پاؤں اچھے تھے۔محترم مولوی عبدالواحد خاں صاحب میر بھی بیان کرتے ہیں کہ :۔ایک مرتبہ میں اور مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب مرحوم سیالکوٹ سے دارالامان آئے حضور کو ہم نے اپنی مسجد کے مقدمہ کے حالات سنانے اور دعا کے لئے عرض کرنی تھی۔یہ بہت بڑی مسجد صدر بازار چھاؤنی سیالکوٹ میں ہے حضرت مولوی فیض الدین صاحب والی مسجد موسومہ کبوتراں والی کا مقدمہ اس کے بعد ہوا ہے ہماری اس صدر والی مسجد کے مقدمہ میں حضرت چوہدری نصر اللہ خانصاحب نے بیعت کی تھی۔ایک شخص کو ئٹہ سے آیا جس کے پیروں میں سات آٹھ برس سے درد تھا۔اور بہت علاج کرانے سے بھی آرام نہیں ہوا۔اس قدر تکلیف تھی کہ وہ بیچارہ چلنے سے معذور تھا۔یکہ پر سے دو تین احمدیوں نے اتارا غالباً نماز کا وقت تھا ان صاحب نے کہا کہ نماز ہوگئی ہے؟ کہا گیا کہ ہونے والی ہے۔ان کے کہنے پر دونو جوانوں نے مسجد مبارک میں پہنچایا۔وہ صاحب اتفا قاد یوار سے ٹیک لگا کر اس کھڑکی کے سامنے ایک ٹانگ لبی کر کے بیٹھ گئے جس کھڑکی میں سے حضور دارا مسیح میں سے بیت الفکر کے راستہ مسجد مبارک میں تشریف لاتے تھے۔جب حضور تشریف لائے تو حضور کا پیر اس کے پیر پر پڑ گیا۔حضور نے افسوس ظاہر کیا آخر نماز کھڑی ہوگئی۔حضور نماز کے بعد کچھ دیر تشریف فرما ہوئے اکثر حضور بیٹھ جایا کرتے اور کچھ ملفوظات طیبات فرمانے کے بعد تشریف لے جاتے۔اسی نماز کے وقت یا دوسری نماز کے وقت دانستہ یا نادانستہ حضور کی آمد یا واپسی کے وقت اس نے دوسرا پیر کھڑکی کے سامنے رکھا ہوا تھا۔حضور کا پاؤں اس کی ٹانگ پر پڑ گیا۔حضور نے افسوس فرمایا یہ شخص بغیر کسی تکلیف کے خود بخود بغیر سہارے چلا گیا۔اور پھر درد کی شکایت نہیں ہوئی۔اس کا بیان ہے کہ مجھے بالکل صحت ہوگئی۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب میاں عطا محمد صاحب موصوف کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ:۔آپ شہر پشاور علاقہ یکہ توت کے باشندے تھے اور کوئٹہ بلوچستان میں عرائض نویس تھے۔بقیہ اگلے صفحہ پر