اصحاب احمد (جلد 10) — Page 270
270 واسکٹ کو آنکھوں میں لگا تا رہا۔تین ماہ کے بعد پھر ڈاکٹر مذکور نے معائنہ کیا۔اور کہا کہ اور تین ماہ کے بعد آیئے۔دو تین بار گیا۔لیکن ڈاکٹر صاحب کا منشاء پورا نہ ہوا۔میں برابر لکھ پڑھ سکتا ہوں۔نزول الماء جہاں تھا وہیں رکا ہوا ہے۔الحمد للہ الحمد للہ ( گویا اس پر ستائیس برس گزر چکے ہیں اور اس وقت آپ کی عمر نوے برس کے قریب ہے۔مولف) ۶۹۔( از مولوی صاحب موصوف)۔ایک مرتبہ مولوی سید محمد احسن صاحب مرحوم اپنے وطن سے اپنے ساتھ ایک آدمی کو لائے۔جو کان سے بہت بہرہ تھا۔وہ بات سنتے وقت ایک بانس کی لمبی سی نلکی کان میں لگا لیتا تھا۔مولوی صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ شخص نو دس برس سے بہرہ ہے۔بہت علاج کیا۔فائدہ نہیں ہوا۔حضور دعا فرماویں۔حضور نے جواب نہیں دیا اور تقریر شروع کر دی۔تقریر ختم ہونے پر حضور جانے لگے تو وہ بہرہ آدمی اچھل کر کھڑا ہو گیا۔اور اس نے نلکی تو ڑ کر پھینک دی اور کہا کہ میں نے ساری تقریر حضور کی سنی ہے۔۷۰۔(از ماسٹر فقیر اللہ صاحب )۔ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شخص منشی عطا محمد خاں پشاوری جو کوئٹہ میں عرائض نویس تھا۔حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔مہمان خانہ میں مقیم تھا کہ اسے پاؤں کے دونوں انگوٹھوں میں نقرس کی درد شروع ہوگئی۔بیچارہ سخت لاچار اور چلنے پھرنے سے عاجز ہو گیا۔ایک دن ظہر کی نماز کے لئے گھٹتا ہوا چھوٹی مسجد میں نماز پڑھنے گیا۔اور اس کھڑکی کے قریب بیٹھ گیا جہاں سے حضرت صاحب حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ :۔ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی اپنے ایک رشتہ دار کو امروہے سے قادیان ہمراہ لائے۔وہ شخص فربہ اندام ۵۰-۶۰ سال کی عمر کا ہوگا اور کانوں سے اس قدر بہرہ تھا کہ ایک ربڑ کی نلکی کانوں میں لگایا کرتا تھا اور زور سے بولتے تو وہ قدرے سنتا۔حضرت صاحب ایک دن تقریر فرما رہے تھے اور وہ بھی بیٹھا تھا۔اس نے عرض کی کہ حضور مجھے بالکل سنائی نہیں دیتا میرے لئے دعا فرما ئیں کہ مجھے آپ کی تقریر سنائی دینے لگے آپ نے دوران تقریر میں اسکی طرف روئے مبارک کر کے فرمایا۔کہ خدا قادر ہے۔اسی وقت اس کی سماعت کھل گئی۔اور وہ کہنے لگا حضور مجھے ساری تقریر آپ کی سنائی دیتی ہے۔اور وہ شخص نہایت خوش ہوا اور نکی ہٹا دی۔اور پھر وہ سننے لگ گیا۔(115) یہ روایت مختصر أسيرة المہدی حصہ اول میں ۵۱۴ پر بھی درج ہے۔مولوی عبدالواحد خانصاحب کا کہنا ہے کہ حضور نے دعا کی درخواست پر جواب نہیں دیا۔اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ ان کو علم نہیں اور عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتی سو جزئی طور پر بھی ہر دو کی روایات میں کوئی تعارض نہیں۔