اصحاب احمد (جلد 10) — Page 272
272 اے۔(از مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری )۔ایک دفعہ ایام جلسہ میں سیر سے واپسی پر ایک دوست نے عرض کیا کہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوئی اپنی کو ئی نظم سنانا چاہتے ہیں اس پر جہاں اب مدرسہ تعلیم الاسلام ہے حضور علیہ السلام تھوڑی دیر کیلئے ٹھہر گئے۔مگر ایک دوست نے چادر بچھادی جس کو پہنچابی میں لوئی کہتے ہیں۔اس پر حضور بیٹھ گئے۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جوا بھی بچہ تھے کھڑے رہے۔اس پر حضوڑ نے دیکھ کر فرمایا میاں محمود ! تم بھی بیٹھ جاؤ۔اس پر آپ چادر پر بیٹھ گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی فرماتے ہیں۔”حضرت صاحب کا عام طریق یہ تھا کہ یا تو اپنے بچوں کو صرف نام لیکر بلاتے تھے اور یا خالی میاں کا لفظ کہتے تھے میاں کے لفظ اور نام کو لا کر بولنا مجھے یاد نہیں مگر ممکن ہے کسی موقعہ پر ایسا بھی کہا ہو۔“ ( روایت ۶۰ ۵ سیرۃ المہدی ) د ۷۲۔( از مولانا صاحب موصوف )۔ایک دفعہ ایام جلسہ میں حضور ٹھیکر یوالہ کی طرف مع خدام سیر کو تشریف لے گئے۔واپسی پر دو تین جگہ حضور تشریف فرما ہوئے۔جہاں جہاں آپ بیٹھے وہ وہ جگہیں ہیں جہاں اب حضرت نواب محمد علی خانصاحب کی کوٹھی۔اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت و بورڈنگ ہے دوستوں نے نظمیں پڑھیں اور حضور نے سنیں۔‘ (116)۔‘‘ ۷۳۔(از مولانا صاحب موصوف )۔ایک دن جب سیر کو جانے سے قبل حضور علیہ السلام چوک متصل مسجد مبارک میں قیام فرما تھے تو آپ نے خاکسار کو فرمایا کہ مولوی صاحب (یعنی حضرت خلیفہ اول ) کو بلا لاؤ۔خاکسار بلالایا۔سیر میں جب مولوی صاحب حضرت مسیح موعودؓ سے پیچھے رہ جاتے تو حضور علیہ السلام سے عرض کیا جا تا کہ حضور ! مولوی صاحب پیچھے رہ گئے ہیں تو حضور علیہ السلام صرف قیام ہی نہ فرماتے بلکہ بعض اوقات بقیہ حاشیہ:۔ساری عمر کوئٹہ میں گزاری۔آپ حضرت مولانا غلام حسن خانصاحب کے شاگرد تھے اور انہی کی وجہ سے احمدیت کی طرف رغبت ہوئی۔حضرت احمد علیہ السلام کے زمانہ میں داخل احمدیت ہوئے کبھی کبھی جب پشاور آتے تو حضرت مولانا کو ملنے آتے۔حضرت نورالدین کے زمانہ خلافت میں بھی بقید حیات تھے۔اختلاف کے زمانہ میں فوت ہوئے معلوم نہ ہوسکا کہ کب اور کہاں فوت ہوئے۔مگر بظاہر خاموش طبع اور صالح انسان معلوم ہوتے تھے غالبا کوئٹہ میں فوت ہوئے۔مزید حالات معلوم نہیں۔( تاریخ احمدیہ (117) خطوط وحدانی والی عبارت کا اضافہ الحکم بابت ۲/۳۵/ ۲۸ سے کیا گیا ہے۔الحکم میں صرف محمود ہے میاں محمود نہیں۔گویا مولا نا صاحب کے حافظہ کا اصرار میاں محمود پر نہیں۔