اصحاب احمد (جلد 10) — Page 260
260 قریب آئے۔تو نورمحمد کے علاج کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح اول کے پاس حاضر ہوئے۔آپ نے تشخیص کے بعد فرمایا کہ آپ چند روز ٹھہر کر علاج کرائیں تو پھر میں بتلا سکوں گا کہ یہاں پر رہ کر علاج بہتر ہوگا۔یا گھر پر بھی دوائی استعمال ہو سکے گی۔ان تینوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بھی حاضر ہونے کی خواہش کی چنانچہ حضور نے بوقت نماز ظہر شرف ملاقات بخشا۔دوران گفتگو میں ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ سفر کتنی مسافت کا ہو تو نماز قصر کی جاسکتی ہے۔حضور نے فرمایا آپ کو سفر کی کیا ضرورت پیش آتی ہے پیر زادہ نے کہا کہ مریدوں کے پاس جانا ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ آپ مریدوں کے پاس کیوں جاتے ہیں اور کیوں جا کر بیچاروں کو تنگ کرتے ہیں ہماری طرح گھر پر ہی کیوں نہیں بیٹھتے ؟ جو رزق اللہ تعالیٰ نے آپ کی قسمت میں لکھا ہے وہ مل رہے گا۔اس طرح رزق کی کسر بھی جاتی رہے گی اور نماز کو قصر کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑے گی نیز فرمایا کہتے ہیں کہ ایک پیر صاحب شام کو ایک گاؤں میں اپنے ایک غریب مرید کے گھر پہنچے جو نذرانہ دینے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔وہ مرید پیر صاحب کو دیکھ کر باہر ایک کماد کے کھیت میں جا چھپا۔صبح کو خیال کر کے کہ اب پیر صاحب غالبا رخصت ہو چکے ہوں گے وہ گھر کی طرف لوٹا لیکن سوئے اتفاق سے پیر صاحب باہر نکلتے ہوئے گلی میں دو چار ہو گئے۔اور بغیر سلام علیکم کہنے لگا لاؤ ہماری نذر۔مرید بولا اگر اپنی نظر آپ کو دیدوں تو خود کیسے دیکھوں گا پیر کہنے لگے بھئی پیر کا نذرانہ روپیہ دو۔مرید نے کہا۔حضرت میرے پاس روپیہ ہوتا تو ساری رات کماد کے اندر کیوں چھپا رہتا۔پھر مسکراتے ہوئے آپ نے فرمایا۔اس طرح جا کر غریبوں کو تنگ کرنا اور شرمندہ کرنا اچھا نہیں۔اس کلام کا ان تینوں بھائیوں پر یہ اثر ہوا کہ تینوں نے بیعت کر لی۔مگر سنا ہے کہ بعد میں پھر دنیوی لالچ سے انہوں نے بیعت فسخ کردی۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا آلَيْهِ رَاجِعُونَ۔میں نے ان میں سے ایک کی زبان سے بار ہا یہ صدا سنی۔مرزا نور خدائے دا اکھیں ڈٹھا آج۔“ (103) یہ روایت به تغیر الفاظ سیرت المہدی ( نمبر ۷۴۴ ) اور الحکم ۲/۳۵/ ۲۸ ( صفحہ ۵ پر ) بھی درج ہے اور ان میں قدرے اختلاف ہے۔الحکم میں ضلع سیالکوٹ مرقوم ہے۔اور یہ بھی کہ وہ مرزا نظام الدین صاحب کے مکان پر ٹھہرے۔حضور علیہ السلام کو خبر ہوئی تو آپ نے ان کو کہلا بھیجا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔آپ ہمارے ہاں ٹھہریں مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم مولوی صاحب کے پاس نور محمد کا علاج کرانے آئے ہیں۔نہ کہ آپ کے پاس۔“ اور یہ بھی لکھا ہے کہ ظہر کے وقت کی ملاقات کا ایسا اثر ہوا کہ عصر کے وقت سب سے پہلے وہ مسجد میں آئے۔اور اس وقت قصر کے متعلق گفتگو ہوئی۔نور محمد کے علاوہ ایک کا نام غلام محمد آپ کو یاد ہے۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ