اصحاب احمد (جلد 10) — Page 261
261 ۵۰ - ( از مولوی صاحب موصوف )۔ایک سالانہ جلسے پر دو چار مہمان کھانا کھانے سے رہ گئے۔صبح حضور سیڑھیوں سے اترے اور ہم خدام گول کمرے کے پاس منتظر کھڑے تھے آپ نے فرمایا:۔رات کو مجھے الہام ہوا ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ۔( 104 ) معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا گیا۔اور ان کی بھوک کی خدا تعالیٰ نے عرش سے اطلاع دی ہے چنانچہ تلاش کی گئی۔اور ان دو تین مہمانوں کو خصوصیت سے کھانا کھلایا گیا۔اور عذر بھی کیا حضور نے لفظ معتر کی یہ تشریح فرمائی کہ معتر کھلی والے اونٹ کو کہتے ہیں یعنی جس طرح کھجلی والا اونٹ اپنے بدن کو کھجلاتا ہے اسی طرح بھو کے کا معدہ بھی کھجلاتا ہے۔‘‘(105) ۵۱ - ( از مولوی عبدالواحد خانصاحب) مسیح موعود کے رسول کریم ﷺ کی قبر میں دفن ہونے کے ذکر ہونے پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ہر ایک مومن کے ایمان اور اخلاص کے مطابق اس کی قبر کو رسول اللہ ﷺ کی قبر سے قرب عطا کیا جاتا ہے مسیح موعوڈ چونکہ اتحاد و اخلاص میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ کامل یگانگت رکھتا ہے اس لئے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول کریم علیہ کی قبر میں دفن ہو گا۔۵۲۔مولوی صاحب موصوف لکھتے ہیں :۔دو ۲۱ ۱۹۲ء میں میرا ٹھیکہ لاہور چھاؤنی میں تھا لیکن میرا زیادہ تر وقت شیخ عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر لاہور کے ہاں گذرتا تھا۔ایک مرتبہ میں اور شیخ صاحب شاہدرہ جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے گئے۔غالباً برسات کا موسم تھا۔واپسی پر۔۔۔جب ہم پل پر سے گذررہے تھے۔میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ حضرت مسیح موعود کا الہام ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ لاہور بھی کوئی شہر ہوتا تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت غالباً ۱۸۹۶ء میں کی ہے اور یہ الہام ۲۱ ء سے ۲۲ ء سے بہت پہلے سلسلہ کے احباب سے سنتا آرہا ہوں “ (106) بقیہ حاشیہ:۔سیرۃ المہدی میں یہ ذکر ہے کہ مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں ٹھہر نا چاہا مگر جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا تو حضور نے ان کے قیام وغیرہ کا بندو بست اپنے ہاں کروایا۔حضرت خلیفہ اول نے انہیں تین دن ٹھہرایا۔اس وجہ سے ان کو حضور کے پاس آنا پڑتا تھا۔یہاں ملاقات کی خواہش کا اور بیعت کا ذکر نہیں۔لاہور کے متعلق روایات کے متعلق بعض دیگر صحابہ کے ساتھ مولوی عبدالواحد خانصاحب کا ذکر بھی تذکرہ میں موجود ہے۔(107)