اصحاب احمد (جلد 10) — Page 2
2 کھڑکی کے پاس ہی کھڑے حضور کی زیارت کرتے رہے۔بیعت:۔بیعت سے قبل ڈاکٹر صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا راستہ ہے جس میں بر شیر بیٹھا ہوا ہے آپ اس کو دیکھ کر ہراساں ہوئے لیکن جب آگے بڑھے تو شیر نے اپنی گردن جھکا دی اور آپ بسہولت گذر گئے آگے ایک مسجد نظر آئی جہاں سے یہ اعلان کیا گیا کہ یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔چنانچہ آپ نے دیکھا کہ حضرت رسول مقبول می سبز لباس میں ملبوس ہیں۔حضور نے ڈاکٹر صاحب کو پانی کا لوٹا دیا اور آپ نے دورکعت نماز پڑھی۔انہی دنوں ایک مجذوب را ہوں ضلع جالندھر کا رہنے والا مصری شاہ نام امرت سر آیا وہ ایک صوبیدار میجر کا لڑکا تھا۔ڈاکٹر صاحب اس مجذوب کی شہرت سن کر اس کے پاس گئے اس نے آپ کو دیکھتے ہی کہا ” جس نے ولی بننا ہے وہ قادیان جائے چنانچہ آپ نے ۱۸۹۹ء میں بیعت کا خط قادیان حضور علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیا جس کی قبولیت کا جواب غالباً حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے قلم سے نوشتہ موصول ہوا۔اور ۱۹۰۰ء کے اواخر میں قادیان حاضر ہو کر مسجد مبارک میں دستی بیعت کا شرف بھی حاصل کیا۔اس وقت آپ کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی ہیں آپ بیان کرتے ہیں کہ امرت سر میں ان دنوں کڑہ مت سنگھ یا کوچہ مت سنگھ میں ایک مسجد میں نماز جمعہ وغیرہ ادا کی جاتی تھی یہ مسجد احمدیوں کے قبضہ میں آگئی تھی۔اور حضرت ڈاکٹر عبید اللہ صاحب مرحوم کے مکان کے قریب تھی لیکن یہ علاقہ تقسیم ملک کے وقت فسادات میں منہدم ہو گیا تھا۔حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم کے زیر اثر ان کے اقارب میں سے مشہور ہندوستانی لیڈر ڈاکٹر سیف الدین کچلو ( سٹالن کر اس) بھی احمدی ہو گئے تھے اور نمازوں میں شمولیت کرتے تھے لیکن بعد میں کانگریس کی سیاسی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے مذہب سے بیگانہ ہو گئے۔ڈاکٹر کچلو کے احمدی ہونے کا ذکر حضرت ملک مولا بخش صاحب مرحوم کی طرف سے ان کے حالات میں قدرے تفصیل سے ہو چکا ہے۔(دیکھئے اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۱۴۰) محترم ڈاکٹر عطر الدین صاحب کے بیان سے اس کی تائید ہوتی ہے۔استفسار پر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے ڈاکٹر صاحب سے متعلق ذیل کی تحریر رقم فرمائی تھی محمدہ ونصلی علی رسولہ لکریم وعلی عبدہ اسیح الموعود بسم اللہ الرحمن الرحیم بخدمت سیکرٹری بہشتی مقبرہ مکرمی و محترمی سلکم الله تعالى وكان معكم وفي عونكم آمین۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر