اصحاب احمد (جلد 10) — Page 3
3 قادیان میں تعلیم :۔بیعت کر کے آپ قادیان میں ہی ٹھہر گئے اورتعلیم الاسلام ہائی سکول میں آپ دوبارہ آٹھویں جماعت میں داخل ہو گئے۔کھانا آپ کبھی لنگر خانہ سے اور کبھی حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاں کھا لیتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کے ہاں کھا نالنگر خانہ ہی سے آتا تھا۔اور حضرت مدوح کی طرف سے کچھ نقد امداد ڈاکٹر صاحب کی ہو جاتی تھی جو دودھ وغیرہ ودیگر ضروریات کے کام آتی تھی۔۱۹۰۵ء میں مڈل پاس کر کے چند ماہ آپ نویں جماعت میں پڑھتے رہے۔پھر آپ نے پڑھائی ترک کر دی لیکن گو آپ بورڈنگ ہی میں رہتے تھے اور وظیفہ بھی پاتے تھے۔۱۹۰۲ء کے آغاز تک آپ نے متفرق دینی تعلیم حاصل کی۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کے درس قرآن مجید اور درس مثنوی مولانا روم میں اور حضرت مسیح موعود کی مجالس میں شرکت کا موقع ملتارہا۔اس طرح کم و بیش پانچ سال تک متواتر آپ کو قادیان میں اس عہد مبارک میں قیام کی توفیق حاصل ہوئی۔نانا جان حضرت میرزا ناصر نواب صاحب کئی بار آپ کو اپنے ہمراہ لاہور لے جاتے رہے تا کہ غرباء کے لئے وصولی چندہ میں مدد دیں۔وٹرنری کالج میں داخلہ : ۱۹۰۶ء میں آپ وٹرنری کالج لاہور میں داخل ہوئے جہاں سے ۱۹۱۰ء میں تعلیم کی تکمیل کر کے فارغ ہوئے۔اس تعلیم کے دوران میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کی طرف سے پانچ روپے ماہوار وظیفہ ملتا رہا۔اور زائد اخراجات آپ بعض طلباء کو ٹیوشن پر تعلیم دے کر پورا کر لیتے تھے جس کا انتظام سید محمد اشرف صاحب مرحوم ( صحابی) نے کیا تھا جومحکمہ تعلیم میں بہت ہر دلعزیز ملازم تھے * بقیہ حاشیہ جوابا عرض خدمت ہے کہ مکرم ڈاکٹر عطر دین صاحب کی قادیان میں آمد کی تاریخ اور سن تو مجھے صحیح طور سے یاد نہیں البتہ یہ امر یقینی ہے کہ صاحب موصوف کو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کی عزت اور ملاقات کا شرف یقیناً حاصل ہوا تھا اور غالباً ۱۹۰۰ ء کے ادھر ادھر کے زمانہ میں ڈاکٹر صاحب قادیان میں آچکے تھے۔واجباً عرض ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے اپنے بیان کے بارہ میں مجھے قطعاً کوئی وجہ شک معلوم نہیں ہوتی۔فقط والسلام عبدالرحمان قادیانی ۶ ستمبر ۱۹۵۳ ء از مقام قادیان بدر میں مرقوم ہے کہ ایک مسکین طالب علم عطر دین نام کا ہے کا ماہوار وظیفہ دیا گیا۔(۱) ۱۹۰۵ء میں مڈل پاس کرنے والوں میں آپ کا نام درج ہے۔(2) بعض لوگ قرض لے کر ادا کرنے کا نام تک نہیں لیتے آپ کی خوبی کا اعتراف صدر انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ بابت ۱۲۔۱۹۱۱ء میں ذیل کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔آمد میں بیشی کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر