اصحاب احمد (جلد 10) — Page 1
1 ڈاکٹر عطرالدین صاحب ولادت تعلیم وغیرہ:۔محترم ڈاکٹر عطر الدین صاحب قوم بھٹی قصبہ چھمال ڈاک خانہ خاص تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداس پور میں میاں بھولا اور مائی کا کو کے ہاں مغرب وعشاء کے درمیان ۱۸۸۸ء میں پیدا ہوئے۔والد غریب تھے اور محنت مزدوری کر کے گذر اوقات کرتے تھے۔آپ کے بڑے بھائی منش گو ہر علی بطور مدرس ضلع گورداسپور کے مقامات شکر گڑھ، کنجر وڑ دتاں ، جگت پورہ، مدو گول ، تلونڈی داباں والی متعین ہوتے رہے اور ڈاکٹر صاحب کو بھی تعلیم کی خاطر اپنے ساتھ رکھا۔مؤخر الذکر مقام پر آپ نے پانچویں جماعت پاس کی۔پھر منشی صاحب کچھ عرصہ بٹالہ میں متعین رہے جہاں آپ سپیشل میں داخل ہوئے۔پھر منشی صاحب کے ضلع فیروز پور میں تبدیل ہونے پر آپ شہر امرت سر میں ایم۔اور ہائی سکول میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔منشی صاحب اس ضلع میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے زیارت اولین : - ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مشہور ہوا کہ امرت سر سے بذریعہ گاڑی گذریں گے۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب زیارت کے شوق سے گاڑی کی آمد سے کافی وقت پہلے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔حضور کے لئے سیکنڈ کلاس کا ڈبہ ریز رو تھا۔حضور اس میں شمالاً جنو با لیٹے ہوئے تھے آپ نے سرخ رنگ کی لوئی اوڑھی ہوئی تھی۔خواجہ کمال الدین صاحب آپ کے سرہانے بیٹھے تھے جب ڈاکٹر صاحب نے زیارت کے لئے کھڑکی سے اندر جھانکا تو خواجہ صاحب نے کہا پیچھے ہٹ جاؤ لیکن حضور اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اس کو مت روکو یہ خدا کے حکم سے آیا ہے ( ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ حضور کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تحریک کرتا ہے تو لوگ حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں گویا اسی طرح مجھے بھی زیارت کی تحریک ہوئی ہے ) چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے حضور کا نورانی چہرہ دیکھا اور پہلی نگاہ سے ہی اس نور مجسم سے بے حد متاثر ہوئے اور گاڑی کی روانگی تک حضور کے ڈبہ کی حمد تحصیل شکر گڑھ تقسیم ملک کے بعد پاکستان میں آگئی ہے اور ضلع سیالکوٹ میں شامل کر لی گئی ہے۔والدہ ۱۹۰۷ء میں قریباً پچاس سال کی عمر میں اور والد ۱۹۱۵ء میں ہعمر قریباً ایک سو سال فوت ہوئے دونوں ان پڑھ تھے۔والد احمدیت کے مخالف نہیں تھے لیکن دونوں میں سے کوئی احمدی نہیں ہوا والد کی یہ دوسری اہلیہ تھیں جن سے پہلی اہلیہ کے بعد شادی کی تھی۔پہلی اہلیہ سے کوئی اولا دن تھی۔