اصحاب احمد (جلد 10) — Page 170
170 ☆ چوہدری بشارت علی خانصاحب ہیں مہر النساء بیگم صاحبہ (اہلیہ) خاندانی حالات:۔شہنشاہ اکبر کے راجپوتانہ پر یورش کے وقت خاندان پرتھوی راج کے شہزادگان اچھوا جی اور کچھوا جی بچوں کے بھدنوں کی رسومات کی ادائیگی کے لئے نیناد یوی ضلع کا ٹھگڑھ آئے ہوئے تھے مگر واپسی مقدر نہ ہوئی اور وہیں آباد ہونا پڑا۔پھر لاہور میں شہنشاہ اکبر کی آمد پر یہ حاضر خدمت ہوئے اور بطور نذرانہ راجپوتانہ سے لائے ہوئے گھوڑے پیش کئے۔اکبر نے ان کے حالات سن کر اضلاع جالندھرو ہوشیار پور میں ایک ہزار ایک صد ہیں مواضعات پر مشتمل جاگیر عطا کی۔ان کی اولاد میں سے رانامل بمقام سر وعدہ تحصیل گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور اور دوسرے دو بھائی بمقام لنگڑ وعہ وراہوں ضلع جالندھر آباد ہوئے۔اصل نام شاہجہاں آبا دیگر کرسر وعہ بن گیا۔رانامل کے چار بیٹے دودے خاں ، تاج خاں۔قیام خاں، اور قابوخاں مشرف اسلام ہوئے۔ولادت و تعلیم اور ملازمت:۔دورے خاں کی اولاد میں سے چوہدری دارے خاں کے ہاں جو کہ پٹواری تھے۔۱۵ دسمبر ۱۸۸۲ء کو چوہدری بشارت علی خانصاحب پیدا ہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم سروعہ میں ہی پائی اور پرائیویٹ طور پر مڈل اور انٹرنس کے امتحانات علی الترتیب ۱۸۹۹ ء اور ۱۹۰۰ء میں پاس کئے۔اور محکمہ ریلوے میں بطور سگنیلر ملازمت اختیار کی۔جسے کچھ عرصہ بعد ترک کر کے ۲ مارچ ۱۹۰۴ء کومحکمہ ڈاک و تار میں بطورریز روسگنیلر بھرتی ہوئے اور ۱۵ دسمبر ۱۹۳۸ء کو ڈپٹی پوسٹماسٹر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔آپ کی ملازمت دیانتداری محنت اور ماتحتوں سے باپ جیسی شفقت کے باعث ممتاز نظر آتی تھی۔آپ تقریباً تمیں سال تک بطور انچارج رہے۔قبول احمدیت۔آپ نے جمعیت حضرت حاجی غلام احمد صاحب سکنہ کر یام جو آپ کی اہلیہ محترمہ کے تایا زاد بھائی تھے۔قادیان جا کر ۶ فروری ۱۹۰۳ء کو حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔یو یہ حالات چوہدری صاحب کے صاحبزادہ مکرم چوہدری عبدالحکیم صاحب (جنرل مینجر پاکستان لائکپورسمندری ٹرانسپورٹ لائکپور) بواسطه اخویم چوہدری احمد دین صاحب بی اے حاصل ہوئے۔ید بیعت کی تفصیل گزشتہ صفحات میں حضرت حاجی صاحب کے حالات میں درج ہے آپ کی بقیہ حاشیہ اگلے