اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 171 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 171

صفحہ 171 اور کئی روز آپ کو قادیان میں قیام کا موقع ملا۔اپنے گاؤں سڑوعہ میں اولین شرف بیعت آپ ہی کو حاصل ہوا۔آپ کی بیعت کے بعد آپ کے تمام خاندان نے بیعت کرلی اور گاؤں میں سعید روحیں یکے بعد دیگرے حلقہ بگوش احمدیت ہونے لگیں۔اور وہاں مخالفت نہیں ہوئی۔اور ۱۹۴۷ء میں بوقت ہجرت احمدیوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔اہلی زندگی:۔آپ کی شادی محترمہ مہر النساء بیگم صاحبہ سے ہوئی تھی۔جب آپ بیعت کر کے گھر واپس پہنچے تو موصوفہ نے بھی اپنی بیعت کا خط لکھوا دیا۔اور اگلے ماہ قادیان پہنچ کر پھر حضور کی بیعت کی۔آپ آخر تک احمدیت پر قائم رہیں۔اور یکم نومبر ۱۹۵۹ء کو وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں مدفون ہوئیں۔اَللَّهُمَّ اغْفِرُ لَهَا وَارُحَمُهَا۔آمین۔آپ کی یاد گار ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔آپ تحریک جدید کے دفتر اول کے مجاہدین میں شامل تھیں۔(47) خدمات سلسلہ اور آپ کا اُسوہ حسنہ:۔کرتار پور۔نواں شہر ، جالندھر شہر وغیرہ جن مقامات پر بھی آپ متعین رہے۔احمد یہ مساجد نہ ہونے کے باعث آپ کے مکان کا ایک کمرہ نمازوں۔جمعہ وعیدین کے لئے بقیہ حاشیہ : فائل وصیت میں بھی بیعت کی تاریخ فروری ۱۹۰۳ ء درج ہے۔حضرت چوہدری برکت علی خانصاحب وکیل المال نے بھی اپنے حالات میں لکھا ہے کہ میں اپنے ماموں چوہدری بشارت علی خانصاحب اور ماموں چوہدری عالمگیر خانصاحب کے پاس بمقام سڑوعہ تعلیم کے لئے رہا۔چوہدری بشارت علی خانصاحب نے ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء میں بیعت کی اور چوہدری عالمگیر خانصاحب نے ۱۹۳۸ء میں بیعت کی۔اور ۱۹۴۱ء میں وفات پائی۔( 48 ) مرحومہ کے والد نیز بھائی چوہدری مہر خاں صاحب بھی صحابی ہیں۔اور تینوں کی بیعت کا اندراج فہرست بیعت کنندگان میں دیگر اقارب کے ہمراہ البدر بابت ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء میں موجود ہے آپ کا نام ہمشیرہ مہر خانصاحب“ کے طور پر مرقوم ہے۔(صفحہ ۲۶۴) بیٹے کا نام چوہدری عبدالحکیم خاں ہے اور وہ لائلپور میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے جنرل مینجر ہیں اور بیٹی محترمہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ہیں جو چوہدری شفیق الرحمان صاحب سب ڈویژنل کلرک سرگودہا کی اہلیہ ہیں۔