اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 117 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 117

117 شریف میں ہم مہمان خانہ قادیان میں قیام پذیر تھے اس وقت میری عمر اکیس برس کی تھی شرمیلا پن کی وجہ سے آپ سے زیادہ بات چیت نہ ہوئی بعد ازاں ہر جلسہ پر ملاقات ہوتی۔۱۹۳۵ء کے جلسہ کے ایام میں میں نے آپ کی خدمت میں ایک ملفوف لکھا آپ نے جوا با تحریر کیا کہ اگر آپ نام نہ بھی لکھتے تب بھی میں سمجھ جاتا کہ لکھنے والا کون ہے۔فرماتے تھے کہ حج پر روانگی سے قبل حضرت خلیفہ مسیح اول سے ملاقات کی حضور نے نصیحت فرمائی کہ ” حج پر چلے ہو۔نماز نہ ترک کرنا اس وقت تو اس کا مفہوم سمجھ میں نہ آیا۔البتہ جب قافلہ اونٹوں پر روانہ ہوا تو کئی لوگوں نے پانی نہ ملنے اور نیچے اتر کر زمین پر نماز ادا کرنے کے خیال میں نماز میں ضائع کر دیں ہم کجا ووں پر بیٹھے تیم کر کے نمازیں ادا کر لیتے اس وقت سمجھ آیا کہ اس نصیحت میں کیا حکمت تھی۔فرماتے تھے کہ ہماری مسجد کا نام مسجد نور ہے۔گاؤں میں کئی قسم کی تحریکات ہیں۔میں کسی کا پریزیڈنٹ اور کسی کا سیکرٹری ہوں۔ماسوائے قرضہ کی سوسائٹی کے کہ اس میں سود کا لین دین ہوتا ہے اس لئے میں نے اس میں شمولیت نہیں کی۔میں ہر سال غرباء کے لئے جلسہ سالانہ پر کپڑا ( کھدر ) لاتا ہوں۔اور اپنے دوستوں کے لئے عمدہ تیار کردہ گڑ لاتا ہوں۔آپ کے پاس قرآن مجید ہر وقت رہتا تھا۔فرماتے تھے میں ہر وقت باوضور ہتا ہوں مجھے آخری پارہ سارا حفظ ہے اور بھی بہت سی سورتیں یاد ہیں۔فرماتے تھے کہ جب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت میں یہ تحریک فرمائی کہ دوست دوسری شادی کریں۔تاکہ جماعت احمد یہ تعداد کے لحاظ سے ترقی کرے تب میں نے دوسری شادی کی۔اور میرے استفسار پر فرمایا کہ میری دونوں بیویوں میں کبھی شکر رنجی نہیں ہوئی۔بلکہ آپس میں پیار سے رہتی ہیں۔بڑی بیوی چھوٹی کے بچوں کو پیار سے کھلاتی رہتی ہے میں نے بڑی بیوی کو سمجھایا ہوا ہے کہ گھر کی سردار آپ ہی ہیں اور چھوٹی بیوی کو بتایا ہوا ہے کہ بڑی تو بے اولاد ہے سب کچھ تمہارا اور تمہاری اولاد کا ہے اس طرح دونوں خوش رہتی ہیں۔تاثرات الحکم : ایڈیٹرا حکم محترم شیخ محموداحمد صاحب عرفانی تحریر کرتے ہیں:۔”جناب حاجی غلام احمد خان صاحب ہمارے سلسلہ کے خاص بزرگوں میں سے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان