اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 116 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 116

116 ایک مرتبہ آپ کے گاؤں میں ایک مجسٹریٹ نے موقع دیکھتے وقت مدعی فریق سے کہا کہ اگر اس جگہ کوئی سچ بولنے والا ہو تو پیش کرو۔میں اس سے اصل حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔اس نے حاجی صاحب کا نام لیا۔حاجی صاحب کو طلب کیا گیا۔حاکم نے عزت سے بٹھایا اور اصل حقیقت دریافت کی۔آپ نے سچی بات کہہ دی حاکم نے حاجی صاحب کی شہادت کی بنا کر مدعی فریق کے حق میں فیصلہ کر دیا۔مدعا علیہ فریق احمدی تھا۔اس نے مسجد میں آنا بند کر دیا۔اگر کوئی دنیا دار ہوتا تو شاید خیال کرتا کہ اگر یہ شخص مسجد میں آکر نماز نہ پڑھے گا تو میرا اس میں کیا نقصان ہے۔نقصان اسی کا ہوگا۔مگر حاجی صاحب نے اپنے بعض دوستوں کی معیت میں جا کر اسے سمجھایا اور کہا کہ میں نے تو خدا کے حکم کے مطابق سچی شہادت دی ہے اس پر آپ کو ناراض نہیں ہونا چاہئے۔اور اسے سمجھا بجھا کر مسجد میں لے آئے اور نماز شروع کرا دی۔حاجی صاحب مرکز کے احکام کو دل و جان سے قبول کرتے اور تمام کاموں پر انہیں مقدم کرتے تھے ایک دفعہ جماعت بنگہ کا کوئی کیس تھا۔نظارت تعلیم و تربیت نے مجھے اس کیس کے تصفیہ کے لئے جانے کا ارشاد فرمایا۔اور ساتھ ہی حاجی صاحب کو بنگہ پہنچنے کے لئے تحریر فرمایا۔میں جب بنگہ پہنچا تو میں نے دیکھا کہ حاجی صاحب محترم مجھ سے پہلے ہی بنگہ پہنچے ہوئے ہیں کیس کے تصفیہ پر ایک ہفتہ گذر گیا۔اس عرصہ میں محترم مذکور نے کبھی واپس جانے کے لئے اشارہ یا کنایہ ذکر نہ کیا۔جب تصفیہ ہو گیا تو فرمایا اب میں جاتا ہوں آپ جمعہ پڑھا کر جائیں۔نیز فرمایا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ اتنے دن لگ جائینگے میں گھر میں اطلاع دے کر بھی نہ آیا تھا۔یہ کہہ کر آپ تشریف لے گئے مجھے جہاں تک واقفیت ہے حاجی صاحب مکرم نہ صرف اپنوں میں بلکہ بیگانوں میں بھی خیر خواہ سمجھے جاتے تھے اور وہ اپنے تنازعات کا ان کے ذریعہ فیصلہ چاہتے تھے آپ اپنے علاقہ کی جماعتوں کی نگرانی فرماتے رہتے تھے اور مرکزی ہدایات پر فور اجماعتوں میں پہنچ کر اس کی تعمیل کراتے تھے۔(37) تاثرات پیر شیر عالم صاحب : محترم پیر شیر عالم صاحب ہیڈ ماسٹر پنشنر سکنہ گولیکی ( گجرات ) تحریر فرماتے ہیں:۔میری واقفیت حضرت حاجی صاحب سے اگست ۱۹۱۷ ء میں ہوئی جبکہ دیگر احباب کی طرح رمضان یہاں تک یہ واقعہ الفضل کے حوالہ سے رسالہ ”شمائل احمد “ شائع کردہ شعبہ اطفال مجلس خدام الاحمدیہ قادیان میں بھی درج ہوا ہے۔(صفحہ۵۰)