اصحاب احمد (جلد 10) — Page 115
115 آپ کے تو کل اور غناء نفس کا مقام بہت بلند تھا۔اسی مرض کے دوران ایک روز روپیہ قریبا ختم تھا۔مجھے بہت فکر ہوا۔اسی روز ضلع گجرات کے ایک احمدی بزرگ پیر شیر عالم صاحب ہیڈ ماسٹر تشریف لائے اور پانچصد روپیہ پیش کر کے فرمایا کہ علاج کے لئے یہ حقیر رقم حاضر ہے اور تو کوئی خدمت میں کر نہیں سکتا۔حاجی صاحب نے فرمایا جزاکم اللہ احسن الجزاء : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے صاحب جائیداد بنایا ہے۔اور وہ خود میر اکفیل ہے۔پیر صاحب کی دلجمعی کے لئے آپ نے دس روپے لے لئے اور ان کا پھل منگوا کر مریضوں میں تقسیم کروا دیا۔اگلے روز محترم چوہدری مہر خانصاحب تشریف لے آئے۔گھی کا ایک ٹین بھی لائے اور کافی رقم بھی۔حاجی صاحب نے دریافت فرمایا کہ یہ رقم وہ کہاں سے لائے ہیں چوہدری صاحب نے بتایا کہ کچھ رقم تو آپ کے بھوسہ کی فروخت کی ہے۔اور بقیہ رقم مسجد احمدیہ کی تعمیر کی رقم کا نصف ہے جس کا میں نے وعدہ کیا تھا۔(حضرت حاجی صاحب نے ساری رقم اپنی طرف سے صرف کر کے مسجد بنوالی تھی جس کا نصف حسب وعدہ چوہدری صاحب کے ذمہ تھا) تقسیم ملک کے وقت حضرت حاجی صاحب کی برکت سے ہمارا گاؤں محفوظ رہا اور تمام احباب بحفاظت تمام پاکستان پہنچ گئے۔اس برکت کا مجھے یوں علم ہوا کہ میں اس موقع پر لاہور میں تھا اور قتل و غارت کے حالات پڑھ کر سخت متفکر تھا۔ایک رات دعا کر کے سویا تو خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑے پلنگ پر جالی لگی ہوئی ہے۔اور اس پر جلی حروف مرقوم ہے۔” کر یام حاجی غلام احمد کا گاؤں بالکل محفوظ ہے غم نہ کریں۔چنانچہ بفضلہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا گویا ان کی برکت کے باعث ان کی وفات کے بعد بھی ان کے اعزہ واقارب گاؤں والوں پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔تاثرات انسپکٹر صاحب تعلیم وتربیت:۔محترم انسپکٹر صاحب تعلیم وتربیت اپنے طویل تجربہ کی بناپر ذیل کے تاثرات رقم فرماتے ہیں:۔وو محترم حضرت حاجی غلام احمد آف کر یام۔نہایت متقی پارسا خادم دین اور لوگوں کے بچے ہمدرد واقع ہوئے تھے۔گویا آپ بچے معنوں میں عابد اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے والے تھے حاجی صاحب جماعت احمدیہ کریام کے امیر تھے اور ہمیشہ ان کی یہ خواہش رہتی تھی کہ احمدیت کے منشاء کے مطابق ہر احمدی کہلانے والا دین میں ترقی کرتا دکھائی دے اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو جماعت کے لئے نمونہ بنارکھا تھا اور احباب جماعت کے لئے جذبات کی قربانی کرتے رہتے تھے۔