اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 114 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 114

114 میرے جیسے کم عمروں کو بھی آپ کہہ کر خطاب فرماتے۔آپ سنجیدہ طبع تھے۔خلاف واقعہ یا شرعاً معیوب بات پر آپ کبھی بھی نہیں بنتے تھے۔ایک دفعہ ایک مقرر نے موضع کریام میں آریوں اور سکھوں کے متعلق بہت ہنسانے والی تقریر کی۔آپ صدر جلسہ تھے گو تمام لوگ ہنستے رہے لیکن آپ کوہ وقار بن کر بیٹھے رہے۔اختتام جلسہ پر مقرر نے آپ سے کہا کہ میں نے ہنسانے والی بہت باتیں کیں لیکن میں نے آپ کو ہنستے نہیں دیکھا۔فرمایا میں اس وقت استغفار کر رہا تھا۔مجھے کسی ایسی بات پر ہنسی نہیں آتی قرآن مجید میں واضح حکم لَا يَسْخَرُ قَومٍ مِنْ قَومِ (35) موجود ہے۔آپ کی تربیت کا عجیب رنگ تھا۔میں نے میٹرک کا امتحان دیا تو فرمایا کہ ان فارغ ایام سے استفادہ کروں۔چنانچہ میرے لئے یہ پروگرام بنایا گیا۔صبح تین بجے تہجد خوانی۔تلاوت کم از کم ایک پارہ قرآن مجید بعد نماز فجر تا ظہر اپنے فرائض کی ادائیگی۔بعد نماز ظہر بچوں کو قرآن مجید وغیرہ کی تعلیم دینا بعد عصر سیر کے لئے جانا اور سیر میں مسنون دعاؤں کو وردِ زبان رکھنا۔نماز مغرب کے بعد کھانا۔بعد نماز عشاء بچوں کو نماز کا سبق ناظرہ اور با تر جمہ پڑھانا۔تحریک جہاد ملکانہ میں تحریک کر کے اپنے ساتھ میرے والد مرحوم چوہدری محمد علی خانصاحب اور اپنے عزیز چوہدری عبدالغنی صاحب نیز سائیں رنگ علی شاہ صاحب کو بھی لے گئے جب آپ آخری مرض میں مبتلا ہو کر امرت سر کے ہسپتال میں داخل ہوئے میں ساتھ تھا۔ایک پروگرام بنایا گیا۔جس کے مطابق سارے کام ہوتے۔اور اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تو آپ اس کی وجہ دریافت فرماتے وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہا۔اور آپ کی تبلیغ سے بعض افراد نے احمدیت کو قبول بھی کیا۔ایک روز رستم زماں گاماں پہلوان اپنے ایک دوست رحیم پہلوان کو دیکھنے آپ کے وارڈ میں آئے۔آپ کے ارشاد پر میں گاما پہلوان کو بلا لایا۔آپ نے اس کو اس رنگ میں تبلیغ کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَافِلِينُ - (36) احسن تقویم کی مثل آپ ہیں کیا سڈول اور مضبوط جسم پایا ہے اور اسفل سافلین کی مثال میں ہوں کہ دو قدم چلتا ہوں تو ہانپنے لگتا ہوں۔اس پر پہلوان مذکور نے کہا کہ آپ بزرگ ہیں میرے لئے خاص دعا فرمائیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو بھی ایسا ہی مضبوط بنائے جیسا کہ جسم ہے۔