اصحاب احمد (جلد 10) — Page 386
386 متعلقین کو دوسرے مکان میں جو ملا ہوا تھا اور ( دونوں کے درمیان ) راستہ بھی تھا منتقل کر دیا اور ہر ایک سامان جمع کر دیا۔کیونکہ حضور کا ارادہ حاجی پور میں پندرہ یوم قیام کا تھا۔میں اور میرا کنبہ خوشی میں نہ سماتے تھے۔میری والدہ صاحبہ مرحومہ بھی حیات تھیں۔ان کو ہم سب سے زیادہ خوشی تھی۔وہ خود ہر ضروری شے کا انتظام فرماتی تھیں۔دو تین یوم تک انتظار کرنے کے بعد میں یکہ میں سوار ہو کر جالندھر کو گیا۔چھیڑو کے پھاٹک کے پاس سے جب ایک گاڑی گزری تو پھاٹک بند تھا۔جب میں جالندھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضور آج ہی لو دھیانہ تشریف لے گئے (ہیں) میں متفکر ہوا اور مجھے کچھ حال معلوم نہ ہوا۔اس لئے دوسری گاڑی سے سیدھالو دھیانہ پہنچا۔حضور نے ملاقات میں تفصیل سے اس معاملہ کے متعلق بتایا کہ خاکسار کا مشورہ درست نکلا اور حضور نقصان سے محفوظ رہے اور حاجی پور جانے کا موقع نہیں تھا۔فرمایا کہ ہم سید ھے لودھیا نہ ہی چلے آئے جب آپ یکہ میں پھاٹک کے سامنے کھڑے تھے تو محمد سعید صاحب نے ہم کو بتلایا تھا۔ہم نے کہا تھا کہ اشارہ کر دونگر آپ نے دیکھا نہیں۔(قلمی کا پی صفحہ ۶۲ تا ۶۷) ☆ (۱) منشی صاحب نے شیخ عبدالرحمن صاحب کو لکھوایا تھا کہ حضور کی خاطر مکان میں سفیدی کروائی تھی اور گاؤں کے کچے راستہ کومٹی وغیرہ ڈلوا کر درست کرا دیا گیا تھا۔اور چو پہیہ گھی کور دفن وغیرہ کروالیا گیا تھا۔منشی صاحب کی اولاد نے آپ کی والدہ صاحبہ کا نام عائشہ بیگم بتایا ہے۔(ب) مضمون منشی تنظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرقوم ہے کہ حضرت اقدس کی طرف سے بھجوانے پر منشی ظفر احمد صاحب حاجی پور پہنچے اور بتایا کہ حضور نے آج احباب سے چندہ کی خاص تحریک فرمائی ہے اور آپ کو بلوایا ہے۔سوشی حبیب الرحمن صاحب کے پاس جتنی نقدی گھر میں تھی۔ساتھ لے لی اور جالندھر جا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی اور پیش کردہ رقم ایک صد روپیہ سے کم تھی اور تحریک کردہ رقم میں بھی اس قدر تم کم تھی جتنی منشی حبیب الرحمن صاحب نے پیش کی تھی اور حضور نے فرمایا کہ بس اب ہماری تحریک پوری ہوگئی (۴۳) منشی حبیب الرحمن نے شیخ عبدالرحمن صاحب کو بتایا کہ میری پیش کردہ رقم بہتر روپے تھی۔(ج) الحکم کے اس بیان میں یہ سہو ہے کہ تحریک کردہ رقم میں اسی قدر کمی تھی جو نشی حبیب الرحمن صاحب کی پیش کردہ رقم سے پوری ہوگئی۔اس سہو کا دوامور سے ثبوت ملتا ہے۔اول منشی ظفر احمد صاحب نے بتایا کہ آج اس رقم کی تحریک حضور نے فرمائی ہے اتنی خطیر رقم کا قریباً ایک دن میں جمع ہو جانا اس وقت کے حالات سے کم ہی ممکن ہے بلکہ امر دوم سے یقینی علم ہوتا ہے کہ وہ ابھی بالکل فراہم نہیں ہوئی تھی۔(باقی اگلے صفحہ پر )