اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 387 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 387

387 منشی صاحب ایک نشان کے گواہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ایک پیشگوئی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں : ۲۹ / جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے۔جو بے آواز اور بے ضرر ایک روشن ستارہ کی مانند آہستہ حرکت کرتی ہوئی میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور جب قریب پہنچی تو میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا تھا۔الہام ہوا۔ماهذ اإِلَّا تَهْدِيد الحُكّام یعنی یہ ایک مقدمہ ہوگا اور صرف حکام کی باز پرس تک پہنچ کر پھر نابود ہو جائے گا اور بعد اس کے الہام ہوا إِنِّي مَعَ الأفواج ۱ تیک بغتة يأاتیک نُصرتى إبراء إنّي انا الرحمن ذوالمجد و العلى یعنی میں اپنی فوجوں ( یعنی ملائکہ ) کے ساتھ نا گہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا اور اس مقدمہ میں میری مدد تجھے پہنچے گی۔میں انجام کار تجھے بری کروں گا۔اور بے قصور ٹھہراؤں گا۔میں ہی وہ رحمان ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے اور پھر ساتھ اس کے یہ الہام ہوا۔بَلَجَتُ آ یا تی یعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے اور پھر الہام ہو الواء فتح یعنی فتح کا جھنڈا پھر الہام ہوا انما امرنا اذ ا ا رَدْنَا شَيْئًا ان نَقُولَ لَهُ كُن فيكون اس پیشگوئی سے قبل از وقت پانسو آدمیوں کو خبر دی گئی تھی کہ ایسا ابتلاء آنے والا ہے۔مگر آخر بریت ہوگی اور بقیہ حاشیہ: دوم- (بروئے بیان قلمی کاپی ) منشی حبیب الرحمن صاحب کو حضرت اقدس نے عند الملاقات فرمایا کہ سات صدر و پیه مطلوب ہے جو جمع کرنا ہے۔گویا امر اول کی تصدیق اس تحریری بیان سے ہوتی ہے۔(د) حضور کے جالندھر قریبا ایک ماہ کے قیام اور وہاں سے لدھیانہ جانے کا ذکر تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۲۷۵ میں بھی ہے منشی صاحب نے شیخ عبدالرحمن صاحب کو اتنے عرصہ کا قیام بتلایا تھا۔حضور فروری ۱۸۹۲ء کے دوسرے ہفتہ میں سیالکوٹ تشریف لے گئے پھر وہاں سے کپورتھلہ جہاں دو ہفتہ قیام رہا۔پھر جالندھر جا کر قریبا ایک ماہ قیام رہا اور وہاں سے لدھیانہ چلے گئے۔جہاں سے مئی کے تیسرے ہفتہ میں قادیان مراجعت فرما ہوئے۔تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۱۲۸۸ ۳۲۹۳۲۲۹۲-۴۲۹۴-۵۹۵)