اصحاب احمد (جلد 10) — Page 384
384 اعمال کا عمل میں آنا ضروری ہے جو عبادات اور معاملات کے متعلق بارگاہ رب العزت اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کامل مطیع اور غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احکام صادر فرمائے جس قدر بجا آوری احکام میں ( کوئی ) مستعد اور منہمک ہوگا۔قرب حاصل کرے گا خدا تعالیٰ مجھے توفیق بخشے۔قلمی کاپی ۵۴-۵۶) ایک منصف کی طرف سے حضرت اقدس کو دعوتِ طعام منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ رشتہ میں میرے چانشی محمد اشرف صاحب منصف بمقام لدھیانہ تھے۔وہ مشرع داڑھی رکھتے تھے۔لباس میں سادگی تھی مجھ سے ان کو بہت محبت تھی۔اور وہ میری بات بھی مان لیتے تھے۔ان کی دیانت اور انصاف پسندی کی وجہ سے حکام بھی ان کا احترام کرتے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے لدھیانہ کے قیام میں میں روزانہ لودھیانہ آتا تھا۔اور کبھی رات کومنشی صاحب کے پاس ٹھہر جاتا تھا۔اور ان سے حضور کا تذکرہ اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔اس لئے ان کے دل میں حضور کی قدرومنزلت تھی اور حضور کی زیارت و ملاقات کے لئے حضور کی جائے قیام پر آتے رہتے تھے۔حالانکہ اس وقت اس شہر میں حضور کی شدید مخالفت ہو رہی تھی۔گو انہوں نے بعد میں بھی بیعت نہیں کی۔ایک دفعہ انہوں نے حضور کو ولی اللہ اور اہل اللہ سمجھ کر اور آپ کی خدمت کو باعث نجات جان کر حضور کی کھانے کی دعوت کرنا چاہی اور مجھ سے اپنا اشتیاق ظاہر کر کے چاہا کہ حضور سے عرض کروں کہ حضور ان کی دعوت قبول فرمائیں اور اگر دینی مصروفیات کی وجہ سے ان کے مکان پر تشریف نہ لا سکتے ہوں تو کھانا حضور کی جائے قیام پر پیش کر دیا جائے گا۔میں نے حضور کی خدمت میں ان کی اس خواہش کا ذکر کرتے ہوئے اپنی قرابت بھی بتائی۔حضور نے دعوت منظور کی اور فرمایا کہ ہم ان کے ہاں جا کر کھانا کھا ئیں گے۔منشی صاحب نے دعوت کے روز صفائی وغیرہ کا اہتمام کیا۔بوقت شب حضور معہ قافلہ میرے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔کھانے بہت تکلف سے تیار کروائے گئے تھے۔تکلفات کو تو حضور نے پسند نہیں فرمایا۔لیکن منشی صاحب کی شرافت اور خاموش طبیعت کی تعریف فرمائی۔منشی صاحب کی طرف سے واپسی کے لئے انتظام تھا ٹانگوں کا لیکن حضور نے فرمایا کہ ہم پیدل جائیں گے چنانچہ حضور پیدل تشریف لے گئے میں بھی ہمراہ تھا۔حضرت اقدس کا منشی صاحب کو یاد کرنا حضرت عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ