اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 383 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 383

383 جادو کچھ چیز نہیں نشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں: والد صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد آپس میں مقدمات شروع ہو گئے۔میں ناتجربہ کار مجھے بہت فکر رہتا تھا۔میرا جو مخالف تھا، ایک تو وہ مزاج کا شریر تھا اور غیر احمدی بلکہ احمدیوں کا دشمن، اس نے ارادہ کیا کہ میرے اوپر جادو کر کے ( مجھے ) تباہ کر دیا جائے۔میرے دوست منشی محمد خاں صاحب نے کہیں سے سن لیا کہ مرغ سفید کے ذریعہ جادو کرنا چاہتے ہیں۔ہر چند کہ وہ ایسے خیال کے آدمی نہ تھے۔تب بھی ان کو فکر ہوئی۔مجھے (انہوں نے ) لکھا کہ اگر کوئی سفید ریش (شخص) سفید مرغ آپ کو دے تو نہ لینا۔سفید ریش میرے مخالف کا آدمی تھا۔میں جانتا تھا کہ یہ لوگ ایسے ہی بیہودہ خیال کے آدمی ہیں۔خان صاحب نے کہیں سے سن لیا ہے۔گو میں جادو وغیرہ کا قائل نہ تھا مگر خاں صاحب کی تحریر کا میرے اوپر اثر ہوا اور رنج ہوا۔حضرت صاحب لدھیانہ میں تھے۔میں حضور کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے مخالف جو دینی اور دنیوی طور پر میرے دشمن ہیں، اب معلوم ہوا کہ وہ میرے اوپر جادو کر رہے ہیں۔اگر حضور اجازت دیں تو میں سب کچھ چھوڑ دوں ( یعنی جائیداد جس کے ان لوگوں سے مقدمات ہیں۔ناقل ) حضور نے فرمایا ( کہ ) اس طرح اپنا حق چھوڑ دینا گناہ ہے۔جس طرح دوسروں کا حق لینا گناہ ہے اسی طرح اپنا حق چھوڑ دینا گناہ ہے۔جادو کچھ چیز نہیں۔تم اس کا کچھ فکر نہ کرو۔اور الحمد شریف اور معوذتین زیادہ پڑھا کرو۔پھر کسی طرح خوف نہیں۔میں دعا کروں گا۔یہ تو مجھے معلوم ہو گیا کہ مجھ پر جادو ہو اگر مجھ پر قطعا کسی قسم کا اثر نہیں ہو ا۔اور نہ پھر میرے دل میں اس کا خیال ہی ہوا کہ جادو کا کچھ اثر ہوا کرتا ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ایمان ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دامن پکڑا ہے اور حضور کے وجود کو میں ( نے ) چھوا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ میری ظاہری اور باطنی طور پر حفاظت فرمائے گا۔اور آخرت میں بھی مجھ گنہگار کو اپنے فضل سے میرے گناہوں پر پردہ پوشی فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ السلام کے دربار سے علیحدہ نہ فرمائے گا۔تاہم ایمان کامل کے ساتھ ان بقیہ حاشیہ: میاں محمد خاں صاحب ہنشی ظفر احمد صاحب ہنی عبدالرحمن صاحب منشی فیاض علی صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب کے اسماء بھی شامل ہیں۔انجام آتھم کے آخری صفحہ ۶۳ ( ضمیمہ) پر حضور نے اپنے نام کے ساتھ تاریخ تکمیل کتاب ۲۲ جنوری ۱۸۹۷ء رقم فرمائی ہے۔