اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 297 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 297

297 غلام مرتضی صاحب ان کی نعش کو کپورتھلہ سے راتوں رات قادیان لائے اور یہاں اپنے خاندانی قبرستان میں ان کی آخری آرامگاہ بنائی جہاں وہ اپنے بزرگوں کے پہلو میں آسودہ ہیں۔احباب کپورتھلہ کا عشق و ایمان (۱) --- حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ، خلافتِ اولی میں ایک سفر کے حالات کے سلسلہ میں احباب کپورتھلہ کے عشق و ایمان کے تذکرہ میں تحریر فرماتے ہیں: چونکہ والدہ صاحبہ حضرت اُم المومنین نے کپورتھلہ میں ٹھہرنا تھا، اسی لئے میں بھی سیدھا کپورتھلہ ساتھ گیا۔۔یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں حضرت اقدس مسیح موعود کا بھی کچھ مدت قیام رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ خاص خاص جگہوں میں خاص خاص خصوصیتیں ہوتی ہیں۔کپورتھلہ کی مٹی میں خدا تعالیٰ نے وہ اثر رکھا ہے کہ یہاں جس قدر لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں، کسی دلیل کسی معجزہ کسی نشان کی وجہ سے نہیں ہوئے اور نہ انہیں کسی کشف و کرامت کی ضرورت ہے کہ ان کے ایمان کو قائم رکھے۔بڑے سے بڑا ابتلا ء ہوا اور کیسا ہی سخت امتحان ہوان لوگوں پر خدا کا کچھ ایسا افضل ہے کہ ان کا پائے ثبات ذرہ بھی لغزش نہیں کھا تا۔اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی معجزانہ زندگی کو دیکھ کر آپ کی بیعت ہی نہیں کی بلکہ عشق پیدا کیا ہے۔اور یہاں تک ترقی کی ہے کہ دلیلی را سمجھوں باید دید کا معاملہ ہو گیا ہے۔ان لوگوں نے خدا کے مرسل کی زندگی کو دیکھ لیا ہے کہ وہ کیسی پاک اور صاف تھی۔اور مشاہدہ کر لیا ہے کہ وہ گناہوں سے کیسا پاک تھا۔پس اب جو کچھ ہو، کوئی بات ان کے ایمان کے برخلاف نہیں ہوتی۔اُن کے ہاتھ میں وہ دلیل آگئی ہے کہ اسے کوئی تو ڑ ہی نہیں سکتا۔اور وہ یہ کہ کیا ایسا راستباز آدمی جھوٹ بول سکتا ہے۔اور یہ ایک ایسی کی بات ہے کہ اس کا توڑنا پھر انسان کی طاقت سے باہر ہے۔قرآن شریف نے بھی فقد لبثت فیکم عمرا کے ایک چھوٹے سے جملہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سچائی کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔چنانچہ اس جماعت کے ایک بزرگ کی نسبت حضرت صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ مجھے یہ تو خطرہ نہیں کہ انہیں کبھی میری وجہ سے کوئی ابتلا آئے گا ہاں یہ ڈر ہے کہ محبت کے جوش میں حد سے نہ بڑھ جاویں۔چنانچہ ان کا یہی اخلاص اور محبت ہی حضرت صاحب کو وہاں کھینچ کر لے گیا۔اور یہی ہمیں بھی وہاں لے گیا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص سے ہمیں محبت ہے اس کے متعلقین سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ہے۔اس لئے سچی دوستی کی نشانی یہی سمجھی گئی ہے کہ ایک دوست دوسرے دوست کے مال و جان اور عزیز و