اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 296 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 296

296 کپورتھلہ شہر و ریاست کپورتھلہ صدر مقام ریاست کپورتھلہ کے بارے میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ، ذیل کے کوائف رقم کرتے ہیں۔جو ۱۹۰۸ء میں تھے۔شہر کپورتھلہ ، ریلوے اسٹیشن کرتار پور سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے یہ اسٹیشن امرتسر سے جالندھر جاتے ہوئے دو گھنٹہ کے فاصلہ پر ہے۔کرتار پور سے کپورتھلہ تک پختہ سڑک ہے اور ٹمٹم کا ایک گھنٹہ کا راستہ ہے۔تمام سرکاری مکانات اور باغات اور کوٹھیاں شہر کے اندر ہیں۔سڑکیں بہت وسیع ہیں۔صفائی بہت عمدہ ہے مکانات یوروپین طرز پر بنے ہوئے ہیں۔کچہریوں کی بناوٹ اور سجاوٹ سب انگریزی طرز پر ہے۔مہاراجہ کے اپنے مکانات اس قدر یورپین طرز پر ڈھلے ہوئے ہیں۔اور ان کے اندر کا سامان اور وضع ایسی ہے کہ اگر انہیں یورپین طرز رہائش اور سامان عشرت کی نمائش کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔مہاراجہ صاحب نے اپنی ہسپانوی رانی کے لئے ایک شاندار محل بنوا کر اس میں فرنگی عیش و آرام کے تمام سامان نہایت فراخدلی سے مہیا کئے ہیں۔(۴) تاریخ احمدیت میں کپورتھلہ کی اہمیت کپورتھلہ کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندانی تعلقات کی ابتداء در اصل ۱۸۰۲ء یا ۱۸۰۳ ء میں ہوئی جبکہ سکھوں کی رام گڑھیہ مسل نے حضور کے دادا مرزا عطا محمد صاحب کے زمانہ میں قادیان پر قبضہ کر لیا اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے خاندان سمیت ریاست کپورتھلہ کے مقام بیگووال میں پناہ لینی پڑی۔ان ایام میں ریاست کپورتھلہ کے حکمران سردار فتح سنگھ اہلوالیہ تھے۔جنہوں نے مرزا عطا محمد صاحب سے نہایت فراخدلانہ اور شریفانہ سلوک کیا۔حتی کہ آپ کے گزارہ کے لئے دو گاؤں کی پیشکش بھی کی لیکن مرزا صاحب موصوف نے بشکریہ اس پیشکش کے قبول کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اگر ہم نے یہ گاؤں لے لئے تو ہماری اولاد کی ہمت پست ہو جائیگی۔اور انہیں اپنی خاندانی روایات کے قائم رکھنے اور قادیان واپس لینے کا خیال نہ رہے گا۔کتاب تذکرہ رؤسائے پنجاب کے مصنف سر لیپل گریفن کی تحقیقات کے مطابق مرزا عطا محمد صاحب بارہ سال تک ریاست کپورتھلہ میں مقیم رہے اور وہیں وفات پائی۔لیکن آپ کے جواں ہمت اور بہادر بیٹے مرزا بقیہ حاشیہ نشان x ولے الفاظ ربط کے لئے مؤلف ہذا کی طرف سے زائد کئے گئے ہیں۔نوٹ : - غالباً یہ کاپی اس مواد سے الگ ہے جو حضرت میاں صاحب کے لئے منشی صاحب جمع کر رہے تھے اور حضرت میاں صاحب کی خواہش تھی کہ پچاس ساٹھ صفحات ہونے پر انہیں بھجوادئے جایا کریں۔فروری ۱۹۲۴ء سے اپنی وفات تک کئی سال تک یہ موادشی صاحب انہیں رو کے نہ رکھتے نہ حضرت میاں صاحب رو کنے پر خاموش رہتے۔