اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 246 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 246

246 چنانچہ خاکسار نے مسجد مبارک میں ذکر کیا۔حضور نے فرمایا جس جگہ اہل اللہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس مکان کی بلائیں دور کر دیتا ہے۔چنانچہ تحصیلدار صاحب کو حضور کا ارشادسنادیا گیا۔یہ دونوں مسجد مبارک کی باتیں اس وقت کی ہیں۔جب مسجد میں صرف چند نمازی آسکتے تھے۔یعنی ابھی دوسرا حصہ شامل نہ کیا گیا تھا۔“ (77) ۶۔۷۔(از حاجی صاحب موصوف ) مسجد مبارک میں مغرب کی طرف ایک کوٹھڑی تھی جس میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب حضور کے ساتھ کھڑے ہو کر امامت کرایا کرتے تھے۔اس کوٹھڑی میں دوباتیں جو حضور نے ارشاد فرمائیں مجھے یاد ہیں۔یہ دونوں باتیں مختلف وقتوں کی ہیں۔(الف) خاکسار کوٹھڑی میں موجود تھا۔ایک شخص جو ضلع گورداسپور کا رہنے ولا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی گاؤں کا نمبر دار ہے۔اس نے حضور سے دریافت کیا کہ بنک زمیندارہ میں شامل ہو جاؤں۔حضور نے فرمایا کہ نہیں۔اس پر اس نے کچھ مجبوریاں بیان کیں کہ حکام سے تعلق رکھنا پڑتا ہے اور روپیہ کی بھی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔حضور نے فرمایا۔مومن بنو۔اللہ تعالیٰ اغراض کو پورا کریگا۔پھر فرمایا۔دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے نہ سود لیا اور نہ دیا۔جب خدا ان کے کام چلاتا رہا ہے تو کیا آپ کے کام نہ چلائے گا۔اگر اللہ تعالیٰ حکم کرتا کہ بارش کا پانی پی تو ہر روز آسمان سے بارش نازل کرتا جب خدا سود کو حرام کرتا ہے تو اس کے سوا کام کیوں نہیں چلتا۔“ (ب) ایک شخص نے دریافت کیا کہ نماز میں ہاتھ کس جگہ باندھیں۔آپ نے فرمایا کہ ظاہری آداب بھی ضروری ہیں۔مگر زیادہ توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف نماز میں رکھنی چاہیے۔“ از حاجی صاحب موصوف ) جن دنوں کرم دین کا مقدمہ گورداسپور میں تھا ان دنوں حضور کو الہام ہوا۔خاکسار بھی ایک دفعہ اس مقدمہ کے دوران میں حضور کی خدمت میں گورداسپور گیا تھا۔وہاں الہام قادیان شریف میں ہوا۔اس کا ذکر مسجد مبارک میں ہو رہا تھا۔میں نے حضور کی زبان مبارک سے نہیں سنا مسجد میں ذکر تھا۔کہ حضور کو الہام ہوا ہے۔يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَفَتْحُ الْحُنَيْنِ (78) ۹۔( از حاجی صاحب موصوف ) خاکسار اور حاجی رحمت اللہ صاحب سکنہ راہوں اور حکیم عطا محمد صاحب مرحوم مسجد مبارک میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔عطا محمد مرحوم سکنہ بیر سیال ضلع جالندھر ایک نرم چھڑے کی دیسی جوتی حضور کے لئے بنوا کر لائے۔اور حضور کی خدمت میں پیش کرتے وقت مرحوم نے عرض کی کہ حضور یہ جوتی پاؤں کو لگے گی نہیں یعنی نرم ہے آرام دے گی۔