اصحاب احمد (جلد 10) — Page 247
247 حضور نے فرمایا۔ایسی ہی جوتی چاہیئے۔حضور خود اٹھا کر اندر لے گئے۔اگلے روز وہ جوتی مہمانخانہ سابق میں ایک بوڑھے شخص کے پاؤں میں دیکھی گئی۔‘ ۱۰۔(از حاجی صاحب موصوف ) ان دنوں مسجد مبارک کے ساتھ ابھی دوسرا حصہ شامل نہ تھا سابق زینہ کے ساتھ والی کوٹھڑی جس میں لکڑی کی سیڑھی بھی تھی۔جہاں سے مولوی عبدالکریم صاحب مسجد میں آتے تھے۔چند مہمان حضور کی ملاقات کے لئے آئے۔حضور نے بالوں کو مہندی لگائی ہوئی تھی۔ریش مبارک اور سر مبارک کو مہندی لگی ہوئی تھی۔اور اس پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔اسی حالت میں حضور تشریف لے آئے۔میں بھی ان نو واردوں میں شامل ہو کر اس کوٹھڑی میں بیٹھ گیا۔حضور سے نو وارد باتیں کرتے رہے مگر وہ باتیں مجھے یاد نہیں رہیں۔میں نے اس وقت دیکھا کہ میرے اندر سے کوئی چیز دھوئیں کی طرح نکل رہی ہے۔میں اس وقت حضور کے سامنے بیٹھا تھا۔میں نے بہت غور کیا مگر مجھے ایسا ہی معلوم ہوتا رہا۔کہ یہ گناہ ہیں جو اندر سے دھواں بن کر نکل رہے ہیں اور یہ حضور کی صحبت کی برکت ہے۔“ ۱۱۔(از حاجی صاحب موصوف ایک دن حضور مسجد اقصیٰ میں مسجد مبارک کی طرف سے تشریف لا رہے تھے۔آپ کے ساتھ کئی شخص تھے۔جب آپ سیڑھی سے اتر کر کچھ فاصلہ پر پہنچے۔خاکسار مسجد اقصی کی طرف جارہا تھا۔( وہ جمعہ کا دن نہ تھا ) جب میں نے حضور کو آتا دیکھا میں نے دل میں خواہش کی کہ حضور کو میں پہلے السلام علیکم کہوں مگر میرے کہنے سے پہلے حضور نے السلام علیکم کہا۔میر ۱۲ از شیخ رحمت اللہ صاحب) میرے قادیان ہجرت کر آنے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود صبح آٹھ بجے کے قریب ہم آٹھ نو افراد کے ہمراہ موضع بسر اواں کی طرف سیر کرنے کے لئے نکلے۔راستہ میں ایک دیہاتی کو جس نے کندھے پر گنے اٹھائے ہوئے تھے۔اپنی طرف آتا دیکھ کر حضور ٹھہر گئے۔اس نے قریب آکر کہا۔مرزا جی ! السلام علیکم ! حضور نے فرمایا وعلیکم السلام۔اس نے گنے زمین پر ڈال دیئے اور پنجابی میں کہا کہ بارش کی کمی کی وجہ سے کنوؤں کا پانی سوکھ گیا ہے۔مویشی بھوکے پیاسے مرنے لگے ہیں۔فصل تباہ ہوگئی ہے۔گنے میں دیکھیئے رس نہیں رہا۔آپ بارش کے لئے دعا کریں۔فرمایا۔اچھا ضرور کرونگا۔اور حضور روانہ ہو گئے۔اور اس نے الفضل ۲۳/۶/۳۸ میں جو روایات شائع ہوئی ہیں وہ رجسٹر صحابہ والی ہیں۔روایت ہذا میں خطوط وحدانی والے الفاظ درج ہیں جو الفضل میں درج نہیں ہو سکتے۔