اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 245 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 245

245 ۲۔(از حاجی صاحب موصوف ) ایک دفعہ حضور موضع کھارا کی طرف سیر کے لئے گئے۔راستہ میں بیریوں کے پیروں کے نیچے گرے ہوئے بیر بعض لوگوں نے اٹھانے شروع کئے حضور کو اس کا علم ہوا تو فرمایا۔کہ شریعت ایسا کرنے سے منع کرتی ہے۔بعض نے عرض کیا کہ حضور اگر ہم نہ اٹھا ئیں تو یہ گرے پڑے ہیر ضائع ہو جائیں گے۔تو فرمایا کہ یہ آپ کی ملکیت تو نہیں ہیں کہ آپ کا ان پر حق ہو۔۳ - ( از اخویم چوہدری احمد الدین صاحب ( ۱۹۰۶ ء یا ۱۹۰۷ ء میں والد صاحب حضرت حاجی غلام احمد صاحب موضع بیرسیاں ضلع جالندھر سے ایک اعلی قسم کی جوتی نری کے چمڑے کی تیار کروا کے قادیان لائے۔اور حضور کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا کہ حضور اپنا کوئی مستعمل کپڑا عنایت فرما ئیں۔اس وقت حضور ایک ہلکے سرخ رنگ کی ڈبی دار دھوتی زیب تن کئے ہوئے تھے۔آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے۔اور شلوار پہن کر یہ دھوتی لادی۔یہ دھوتی ہمارے خاندان میں محفوظ ہے گو وہ تمام خطوط جو حضرت مسیح موعود کی طرف سے حاجی صاحب کو موصول ہوتے رہے تھے ۱۹۴۷ء کے فسادات کی نذر ہو گئے۔۴، ۵۔حاجی غلام احمد صاحب ۱۹۰۳ء میں اپنی بیعت اور چھ ماہ کے اندر جماعت احمدیہ کے موضع کریام میں قائم ہونے اور ترقی پانے کا ذکر کر کے تحریر فرماتے ہیں کر یام کا ایک ذیلدار مولا بخش راجپوت حضور کو جذامی کہا کرتا تھا۔آخر وہ خود جزامی ہوکر مرا۔خاکسار نے مسجد مبارک میں حضور کی خدمت میں ذکر کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخالفین کے اندر جذام تو ہوتا ہی ہے مگر اللہ تعالیٰ بعض کے جسم پر بھی ظاہر کر دیتا ہے۔“ ان دنوں لدھیانہ کا شہزادہ ہمدم نواں شہر تحصیل میں تحصیلدار تھا اس کے پاس حضور کے دعوی کا ذکر ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ تحصیلدار صاحب موصوف نے خواب میں دیکھا کہ حضور اس مکان پر تشریف لائے ہیں مجھ سے انہوں نے خواہش کی کہ حضور کی خدمت میں اس خواب کا ذکر کیا جائے۔حمد استفسار پر اخویم چوہدری احمد الدین خان صاحب نے تحریر کیا کہ اس سوتی کپڑے کی دھوتی کی زمین سفید اور اس پر چھوٹی چھوٹی سرخ ڈبیاں ہیں یعنی سرخ چیک ہے۔کپڑا سادہ ہے اس کی لمبائی ایک صد دو انچ اور چوڑائی اڑتالیس انچ ہے۔خاکسار مولف نے اخویم موصوف کے پاس یہ مبارک دھوتی جولائی ۱۹۶۱ء میں لائل پور شہر میں دیکھی ہے جو انہوں نے نہایت احتیاط سے رکھی ہوئی ہے۔