اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 106 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 106

106 مریض کی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔وفات کے قرب کے عرصہ میں جب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو گھر کے بعض افراد نے اجازت چاہی تا آپ کے بیٹے چوہدری احمد دین صاحب کو قادیان سے بلوالیا جائے جو وہاں تعلیم الاسلام سکول میں زیر تعلیم تھے۔آپ نے نہایت اطمینان سے فرمایا کہ نہیں فکر نہ کریں:۔وفات و تدفین : ۳ جولائی ۱۹۴۳ء کو بروز ہفتہ بوقت مغرب آپ بمقام کر یام اس دار فانی سے عالم جاودانی کو سدھارے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - اطلاع ملنے پر گرد و نواح کے احمدی احباب تشریف لائے اور اگلے روز عصر کے بعد سینکڑوں احباب کی معیت میں آپ کے ہمشیرہ زاد چوہدری عبدالغنی خان صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔پھر بس کے ذریعہ جنازہ روانہ ہو کر رات مکرم میاں عطا اللہ صاحب ایڈووکیٹ کے مکان پر امرتسر میں قیام رہا۔اور ۵ جولائی کوعلی الصبح قادیان پہنچا۔سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں جو ڈلہوزی تشریف فرما تھے اور دفتر بہشتی مقبرہ قادیان کو وفات کی خبر دی جا چکی تھی۔دفتر نے حضور کی خدمت میں ذیل کی درخواست کی :۔جناب حاجی صاحب مرحوم کی بیعت ۱۹۰۳ ء کی ہے اس لحاظ سے وہ قطعہ خاص میں دفن نہیں ہو سکتے لیکن ان کی خدمات سلسلہ ایسی ہیں کہ میں حضور سے درخواست کرتا ہوں کہ انہیں قطعہ خاص میں دفن کرنے کی اجازت فرما ئیں۔اس سے قبل بھی حضور نے بعض اصحاب کو ان کی خدمات کے باعث ایسی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔سید محمد سرور شاہ۔سیکرٹری مقبرہ بہشتی، چنانچہ حضور کی طرف سے منظوری مل چکی تھی۔صبح دس بجے کے قریب حضرت سید صاحب موصوف مسل سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور بالار پورٹ حضرت مولوی عبد المغنی خانصاحب مرحوم ناظر صدر انجمن نے پرسیدن پڑھ فون پر سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کی جس پر حضور نے قطعہ خاص میں تدفین کی اجازت مرحمت فرمائی مؤقر الفضل مورخہ ۶/۷/۴۳ میں زیر مدینہ اسیح " مرقوم ہے۔‘ افسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ حاجی غلام احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ کر یام ۳ ماہ وفا کی شام کو فوت ہو گئے۔جنازہ آج صبح بذریعہ لاری یا یہاں لایا گیا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں دفن ہوئے احباب بلندی درجات کے لئے دعافرما ئیں۔