اصحاب احمد (جلد 10) — Page 107
107 نے ہی نماز جنازہ پڑھائی اور قطعہ خاص میں تابوت کی تدفین کے بعد پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب زاد عزہ نے اور پھر حضرت مولوی شیر علی صاحب نے مٹی ڈالی اور حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف ہی نے قبر تیار ہونے پر دعا کرائی۔نشان صداقت حضرت مسیح موعود :۔ایک دفعہ کر یام میں مسمی رحمت ولد آبادان نے حضرت مسیح موعود کے متعلق بہت ناز یبا الفاظ استعمال کئے حاجی صاحب کے منع کرنے پر وہ باز نہ آیا۔بلکہ مباہلہ کے لئے آمادہ ہو گیا۔اور شرط یہ مقرر کی کہ اگر حضرت مسیح موعود بچے ہوں اور حضرت عیسے فوت ہو چکے ہوں تو رحمت مذکور اور اس کا سارا خاندان ایک سال کے اندر اندر کوئی عبرتناک سزا پائیں۔ورنہ اگر حضرت مسیح موعود جھوٹے ہیں اور حضرت عیسے زندہ ہیں تو حاجی صاحب اور ان کے خاندان کو ایک سال کے اندر اندر کوئی عبرتناک سزا ملے۔چنانچہ مباہلہ ہوا بھی چند ماہ نہیں گزرے تھے کہ رحمت کے ہاں ایک پوتا پیدا ہوا جو سئو ر کی شکل سے مشابہ تھا۔اس پر رحمت حاجی صاحب کے پاس آیا اور معافی مانگی۔بہت نادم اور شرمندہ ہوا اور مباہلہ کو ختم کرنے کی التجاء کی اور قوت صداقت کو تسلیم کیا۔ایک روز کریام میں ایک مجلس میں حاجی غلام احمد صاحب اور شیر محمد صاحب سکنہ بنگہ ٹانگہ والے (جن کا ذکر حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات میں آتا ہے ) موجود تھے۔ایک غیر احمدی شخص چھجو خاں نے کہا کہ اگر آج بارش ہو جائے تو میں احمدی ہو جاؤں گا۔شدت کی گرمی پڑ رہی تھی۔حاجی صاحب نے احمدی احباب کی معیت میں نہایت سوز وگداز سے دعا کی۔ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ بادل آسمان پر چھا گئے اور زور کی بارش برسنے لگی۔چنانچہ چھوخاں نے احمدیت قبول کر لی۔حضرت خلیفہ ثانی سے محبت اور حضور کی دعا وشفقت اور حضور اور مرکز کے احکام کی اطاعت : ۱۹۱۷ ء میں آپ کے عزیز چوہدری عبدالغنی صاحب رسالہ فوج سے بغیر اطلاع دیئے بھاگ کر کریام آگئے حاجی صاحب کو علم ہوا تو فوراً ان کو قادیان لا کر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش ہو کر واقعہ عرض کیا۔حضور اس وقت گول کمرہ میں تشریف فرما تھے۔فرمایا کہ واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں۔اور افسر فوج کو یہ کہہ دیا جائے کہ چونکہ یہ طالب علم تھا اور نیا بھرتی ہوا تھا۔فوج کے قواعد سے ناواقف تھا۔طالب علمی کی عادت کے مطابق بھاگ آیا۔اور فرمایا کہ میں دعا کروں گا۔خدا تعالیٰ اپنا افضل نازل کرے گا۔