ارضِ بلال — Page 49
SARIBUNGARI عمر باہ، بچی سوہ، محمد باہ ، موسیٰ باہ خاکسار کا پہلا سفر سینیگال ارض بلال- میری یادیں اگست 1984ء کا ذکر ہے،ان دنوں خاکسار گیمبیا کے ایک قصبہ بصے میں بطور مربی سلسلہ مقیم تھا۔علاوہ ازیں مکرم امیر صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارہ ناصر احمد یہ مسلم ہائی سکول میں انتظامی اور تدریسی خدمات بھی حسب توفیق سرانجام دے رہا تھا۔مکرم امیر صاحب نے سینیگال سے ایک نوجوان معلم مکرم احمد لی صاحب کو میرے پاس بھجوادیا جو چند مہینے میرے ساتھ بصے کے علاقہ میں رہے۔اس دوران انہوں نے سینیگال کے متعلق بہت سی باتیں بتائیں جس کے نتیجہ میں مجھے بھی سینی گال کے بارے میں خاصی دلچسپی پیدا ہوگئی اور پھر دل میں یہ خواہش بھی پیدا ہوئی کہ اگر ممکن ہو تو سینیگال جا کر دیکھنا چاہیئے۔اتفاق سے کچھ عرصہ کے بعد گیمبیا کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا وقت آگیا۔میں نے مکرم امیر صاحب سے سینیگال جانے کی اجازت طلب کی جو انہوں نے بخوشی مرحمت فرما دی۔اس پر میں اور احمد لی صاحب سینیگال کو روانہ ہو گئے۔یہ ایک لمبا سفر تھا۔برسات کا موسم تھا۔رستوں کا برا حال تھا۔بصے سے بذریعہ وین سینیگال کے قریبی شہر و لنگارا گئے۔وہاں سے ایک اور دین لی اور تانبا گنڈا پہنچ گئے۔اس کے بعد کولخ کو روانہ ہو گئے۔یہی علاقہ ہماری پہلی منزل تھی کیونکہ صرف اسی علاقہ میں کچھ مقامات پر گنتی کے چند احمدی احباب تھے۔پہلی رات ہم دونوں کو لخ کی مضافاتی آبادی سار بجگاری میں پہنچے۔وہاں جماعت کی ایک چھوٹی سی کچی مسجد تھی۔ہم نے یہ رات اسی مسجد میں بسر کی۔یہ نہایت ہی غریب آبادی تھی۔اس میں ہر طرف برساتی پانی کھڑا تھا جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں مچھروں کی خاصی بہتات تھی۔بہر حال وہ رات بہت لمبی تھی۔صبح ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔خیر اللہ کے فضل سے رات 49