ارضِ بلال — Page 312
ارض بلال۔میری یادیں وقف کی برکت سے تنگدستی کشائش میں بدل گئی جس سال میں جامعہ میں داخلہ کے لئے ربوہ گیا ہمارے گھر یلو مالی حالات سخت مخدوش تھے۔والد صاحب حسب سابق تھوڑی بہت زمین داری کر رہے تھے۔چند ماہ بعد جامعہ میں کچھ تعطیلات تھیں اس لئے میں گاؤں چلا گیا۔سب اہل خانہ بہت خوش ہوئے۔ہمارے ایک احمدی ہمسائے مکرم سید بشیر احمد شاہ صاحب پولیس میں تھے اور ان کی تقرری گجرانوالہ شہر میں تھی۔گجرانوالہ میں ایک احمدی دوست مکرم ملک مظفر احمد صاحب کے پاس شیزان کی ایجنسی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک قابل اعتبار آدمی کی ضرورت ہے جو میرے کام کی دیکھ بھال کر سکے۔شاہ صاحب نے بتایا ، میرے ایک دوست مکرم بشارت احمد صاحب ہیں ، جو ایک مخلص احمدی ہیں لکھنا پڑھنا جانتے ہیں اور مجھے یقین کامل ہے کہ وہ اس کام کو بخوبی سنبھال لیں گے۔مکرم والد صاحب فرقان فورس میں رہ چکے تھے اردو کے علاوہ کسی حد تک انگلش سے بھی شناسائی تھی۔فرقان فورس کے بعد کافی عرصہ تک سندھ میں ٹھیکہ داری کرتے رہے۔کاروبار میں بعض بڑے نقصانات کے بعد واپس گھر آگئے تھے۔پھر ادھر آ کر کاشتکاری شروع کر دی تھی۔مکرم ملک صاحب نے شاہ صاحب کو فرمایا ، بشارت احمد صاحب کو کسی دن انٹرویو کے لئے بلا لیں۔والد صاحب صرف مقررہ دن گوجرانوالہ تشریف لے گئے۔خدا تعالی کی طرف سے دلجوئی گرمی کا موسم تھا۔میں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور سو گیا۔اس دوران میں نے خواب دیکھا کہ والد صاحب گھر میں مسکراتے ہوئے داخل ہورہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے پوچھا، کام کا کیا بنا ہے؟ والد صاحب نے بتایا کہ انٹر ویو تو ہو گیا ہے اور انہوں نے بتایا ہے کہ وہ بعد میں اطلاع کر دیں گے۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔مجھے سارا خواب یا دکھا ، میں نے والدہ صاحبہ کو بتایا کہ اس طرح میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔غروب شمس سے کچھ دیر پہلے مکرم والد صاحب گھر تشریف لائے۔لبوں 312