ارضِ بلال — Page 311
ارض بلال۔میری یادیں حال احوال پوچھا۔دادا جان نے کہا، میں تو ٹھیک ہوں لیکن میرا پوتا کافی بیمار ہے۔ذرا اسے دیکھ لیں تو مہربانی ہوگی۔حکیم صاحب ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے دیکھا اور پھر کسی سفوف کی چند پڑیاں والدہ محترمہ کو تھما دیں۔اس دوائی نے جادو کی طرح اثر کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے میں بالکل صحیح ہو گیا۔آپ نے خدا کے ساتھ اپنا کیا ہو ا عہد پورا کر دیا والدین نے مجھے بچپن میں ہی وقف کر دیا تھا۔میں اپنے سب بہن بھائیوں میں عمر میں بڑا ہوں۔میرا چھوٹا بھائی مجھ سے دس سال چھوٹا ہے۔جب میں نے میٹرک کیا تو ان دنوں میرے والد صاحب کھیتی باڑی کرتے تھے۔ہمارے وسائل بہت محدود تھے۔گھر میں تنگ دستی تھی۔پھر اتفاق سے جانوروں میں کچھ ایسی بیماری پڑی کہ ہمارے کچھ جانور بھی مر گئے۔جس سے گھر میں سخت پریشانی کی حالت تھی۔اب میرا جامعہ جانے کا پروگرام تھا۔ان موجودہ حالات کے پیش نظر میرے بعض عزیزوں نے از راہ ہمدردی میرے والدین سے کہا کہ تمہارے بیٹے نے اب میٹرک کر لیا ہے۔اب جوان ہو گیا ہے، اسے کسی مناسب کام پر لگائیں جس سے آپ کے حالات کچھ سنبھل جائیں گے۔کیونکہ آپ کی مالی حالت آجکل بڑی مخدوش ہے۔اس سے آپ کی کچھ مدد ہو جائے گی۔ہاں اگر کسی بچہ کو ضرور جامعہ بھجوانا ہے تو چھوٹے بیٹوں میں سے کسی کو بھجوا دینا۔والدہ محترمہ یہ سن کر اس عزیز سے سخت ناراض ہوئیں اور کہنے لگیں، دیکھو! اگر یہ میرا بیٹا مر جائے تو پھر میری مدد کون کرے گا؟ اس لئے میں نے اپنے اس بیٹے کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے، میں یہ ضرور پورا کروں گی۔اور مجھے جامعہ میں بھیج کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کر دیا۔311