ارضِ بلال — Page 263
ارض بلال۔میری یادیں ایک طفلانہ خواہش بھی پوری ہوگئی روز مرہ کی زندگی میں بعض اوقات بہت ہی دلچسپ واقعات جنم لیتے ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر دیتا ہے۔ایک بار خاکسار پاکستان سے گیمبیا کا سفر کر رہا تھا۔کراچی ایئر پورٹ سے Turkish ایئر لائن کا جہاز انقرہ کی طرف رواں دواں تھا۔اس جہاز کا گزر دوبئی کے قریب سے ہونا تھا۔جہاز کے Cabin سے اعلان کیا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد ہم لوگ دوبئی کے اوپر سے گزریں گے۔خاکسار کو کبھی دوبئی جانے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔لیکن میں نے دوبئی ائیر پورٹ کی وسعت اور خوبصورتی کے بارے میں بہت سے دوست احباب سے سن رکھا تھا۔اچانک دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کرے کہ کسی طرح یہ جہاز اس سفر کے دوران دوبئی ائیر پورٹ پر رک جائے۔بس وہ ایک عجیب سی طفلانہ خواہش تھی۔بہر حال یہ خواہش دل میں پیدا ہوئی جس پر آج تک میں خود حیران ہوں۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دوبارہ جہاز میں ایک نسوانی آواز ابھری جو یہ اعلان کر رہی تھی کہ یہ جہاز کسی فنی خرابی کے باعث دوبئی ائیر پورٹ پر اتر رہا ہے۔اس دوران مسافر باہر ائیر پورٹ کے لاؤنج میں جاسکتے ہیں۔خیر تھوڑی دیر کے بعد ہم لوگ دوبئی ائیر پورٹ پر پھر رہے تھے۔تقریباً دو گھنٹے تک ائیر پورٹ کے لاؤنج میں رہے۔شاپنگ سنٹرز دیکھے کچھ شا پنگ کی۔عرب لوگوں کو پہلی باراس قدر قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ائیر پورٹ کی خوبصورتی قابل دید اور قابل تعریف تھی۔اس لحاظ سے یہ سفر ایک تاریخی اور نا قابل فراموش سفر بن گیا کہ کس طرح سمیع وعلیم خدا ہے جو ہم گناہگاروں کی خواہشات کو اس طرح بھی پورا کر دیتا ہے۔الحمد للہ۔263