ارضِ بلال

by Other Authors

Page 264 of 336

ارضِ بلال — Page 264

۔میری یادیں خدائی کیمرہ کولڈا کے علاقہ میں ایک گاؤں مصرا بیٹی میں گئے۔میرے ساتھ ہمارے معلم مکرم شیخ امبالو صاحب بھی تھے۔اس گاؤں کے امام صاحب کافی عمر رسیدہ تھے اور اپنے علاقہ میں علم وفضل کے باعث بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ان سے ملاقات ہوئی۔مجھے مل کر فرمانے لگے کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے اور آج میں نے آپ کی فوٹو لے لی ہے۔جو ساری عمر اپنے پاس سنبھال کر رکھوں گا میں بہت حیران ہوا۔کونسی فوٹو ! کس نے لی! کب لی! کس نے ان کو دی کیونکہ ان کے ساتھ پہلی ملاقات تھی اور وہ بھی ایک چھوٹے سے کمرے میں! میں نے استنجا با عرض کی! کونسا فوٹو ؟ فرمانے لگے کہ مولوی صاحب آج سائنس نے بہت ترقی کی ہے۔بہت سی ایسی چیزیں ایجاد ہو چکی ہیں کہ جس پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی تخلیق تو بے مثل ہے۔آپ کی فوٹو میں نے اپنی آنکھوں سے لی ہے اور اپنے دل میں محفوظ کر لی ہے۔اب ساری عمر اس تصویر کو مجھ سے نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی زمانہ کے حوادث اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔جبکہ ظاہری کیمرہ سے لی گئی تصویر کچھ عرصہ بعد اپنی اصلیت کھو بیٹھتی ہے۔انسانی عقل خدا تعالیٰ کی تخلیق کے سامنے کس قدر عاجز و بے بس ہے۔تعویذ مافيا افریقہ میں سب سے زیادہ امیر لوگ پیر صاحبان ہیں۔سینیگال کی بڑی بڑی عمارتیں اور اہم پلاٹ اور زمینیں انہی کی ملکیت ہیں۔لوگ چونکہ تو ہم پرست ہیں اس لئے اپنے نفع اور نقصان سے بچنے کے لیے ان سے تعویذ لیتے ہیں۔حکمران طبقہ بھی ان کا مرہون منت ہے۔سابق صدر مملکت نے جب انتخاب جیتا تو سیدھا پیر صاحب کے در پر حاضر ہوا۔پیر صاحب صوفہ پر براجمان تھے جبکہ صدر مملکت ان کے قدموں میں بیٹھ کر اپنی وفاداری کا اظہار کر رہے تھے۔264