ارضِ بلال — Page 262
ارض بلال- میری یادیں ) دفتر میں پہنچے ، سفیر صاحب سے علیک سلیک ہوئی۔ہم نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ ہمارا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔ہماری جماعت نے بہت سی زبانوں میں قرآن پاک کے تراجم کیسے ہیں۔ابھی حال میں ہی یہ فرانسیسی زبان میں ترجمہ شائع ہوا ہے۔وہ آپکی خدمت میں پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہم نے قرآن پاک کا ایک نسخہ انکی خدمت میں پیش کر دیا۔انہوں نے کھڑے ہو کر بڑے احترام کے ساتھ اس مبارک تحفہ کو قبول کیا۔اس کے بعد کہنے لگے آپ کے عقائد کیا ہیں۔ہم نے اختصار کے ساتھ جماعت کا تعارف کرایا۔اس پر کہنے لگے کہ ہمیں تو آج کل آپ کی جماعت کے خلاف پاکستانی گورنمنٹ کی جانب سے ڈھیروں ڈھیر لٹریچر مل رہا ہے آپ کو چاہیئے کہ آپ بھی اپنا نقطۂ نظر سب کو بتا ئیں۔اس پر انہیں جماعت کے بارے میں مزید بتایا گیا۔اس پر سفیر صاحب کہنے لگے آپ کے پاس بانی سلسلہ احمدیہ کی کوئی کتاب ہے۔اتفاق سے اس وقت ہمارے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی تصنیف الاستفتاء موجود تھی ، ان کی خدمت میں پیش کر دی۔انہوں نے پہلے تو اس کتاب کے آغاز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کو بنظر غور دیکھا۔پھر کتاب کھولی اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔پھر کتاب میں مستغرق ہو گئے اور اپنے ماحول سے بالکل بیخبر سے ہو گئے۔کافی دیر کے بعد اس سحر سے باہر آئے اور استعجابا کہنے لگے۔یہ مصنف عرب کی کس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔انہیں بتایا گیا کہ یہ تو حصول علم کے لئے اپنے گاؤں سے باہر تک نہیں گئے۔لیکن وہ ماننے کو تیار نہ تھے۔کہنے لگے اس قسم کی عربی زبان عجمی کے اختیار اور بس کا روگ نہیں ہے۔اس پر انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چالیس ہزار عربی ماڈوں والے معجزہ کے بارے میں بتایا گیا۔الغرض وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور انہوں نے ہمارے وفد کا بھی بہت اکرام کیا۔262