ارضِ بلال — Page 86
ارض بلال- میری یادیں ) ملبوس ، عموما سر پر افریقن ٹوپی پہنتے تھے لیکن اس دن سر پر پگڑی باندھی ہوئی تھی (غالباً یہ پگڑی عموماًسمر حضرت خلیفۃ امسیح الرابع " نے انہیں تحفہ دی تھی ) بڑی شان بان کے ساتھ آئے تھے۔میں ان کے اس روپ کو دیکھ کر بڑا حیران ہوا اور پوچھا حاجی صاحب کیا بات ہے! کہنے لگے آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ میرے خدا نے میرے حق میں فیصلہ کر دیا ہے پھر مجھے بتایا کہ میں نے اسے مباہلہ کا چیلنج دے رکھا تھا اور مکرم جکنی صاحب نے مجھے وہ ساری تفصیل بتائی۔میں نے پوچھا اب کیا پروگرام ہے؟ کہنے لگے میں بریکامہ (مرنے والے کا شہر ) جار رہا ہوں اور فوتگی پر آنے والوں کو اس خدائی نشان کے بارے میں بتاؤں گا۔میں نے کہا یہ مناسب نہیں ہے۔اس مولوی کے بہت سے شاگرد ہیں وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔لیکن ابراہیم صاحب مصر تھے کہ وہ ضرور جائیں گے۔اس پر بعض دیگر حاضرین نے بھی انہیں درخواست کی کہ آج نہ جائیں بعد میں چلے جانا لیکن وہ تو اس نیت اور ارادہ سے ایک لمبا سفر طے کر کے ادھر پہنچے تھے۔اس لئے انکی خواہش تھی کہ ضرور وہاں جائیں گے۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ میں آپ کو بطور امیرحکم دیتا ہوں کہ آپ نے اس موقع پر وہاں نہیں جانا ہے۔اس پر خاموش ہو گئے اور پھر کہنے لگے اطاعت امیر سب سے مقدم ہے اور پھر وہاں نہیں گئے۔فجزاہ اللہ تعالی احسن الجزاء ہے کوئی کاذب جہاں میں، لاؤ لوگو کچھ نظیر میری جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار احمدیت قبول کرنے پر اہل خانہ نے مسجد سے نکال دیا کمبل گاؤں میں جب بفضل ایزدی کافی نوجوانوں نے بیعتیں کر لیں تو اس پر ان کے بزرگ جو عرصہ دراز سے پیروں فقیروں کی اندھی پیروی اور ظلم وستم کے اسیر تھے، ان کو اس سے رہائی کے لئے کوشش ناگوار گزری۔ان احمدی نوجوانوں کے بزرگوں نے اپنے پیروں کے مسموم پراپیگنڈہ اور خوف سے جماعت کی مخالفت شروع کر دی بلکہ اپنے ہی بیٹوں کی مخالفت شروع کر دی۔یہاں 86