ارضِ بلال — Page 85
ارض بلال- میری یادیں ) کے چند دن بعد وہ فرافینی سے اپنی فیملی کے پاس بانجول چلا گیا۔اس کا طریق تھا کہ ہر مہینہ اپنی فیملی کو ملنے جایا کرتا تھا۔اس دفعہ جب بانجول گیا تو کافی عرصہ کے بعد تک وہ واپس نہ آیا۔اس دوران اس کے باقی رفقاء کار سے ملاقات ہوتی رہی۔تقریباً دوماہ کے بعد وہ واپس فرافینی آیا۔میں نے دیکھا کہ وہ تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ گزشتہ دنوں اپنی فیملی کو ملنے بانجول گیا ہوا تھا۔وہاں پر مجھے بخار ہو گیا۔ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے یہ بتایا ہے کہ مجھے ایڈز کی مہلک بیماری لگ گئی ہے جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا۔اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد وہ واپس بانجول چلا گیا۔اس کے بعد کبھی واپس فرافینی نہیں آسکا اور چند ماہ کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔مباہلہ کے چیلنج کے نتیجہ میں ہلاکت گیمبیا میں جماعت کے ایک بزرگ اور جید عالم مکرم الحاج ابراہیم بکنی صاحب تھے۔یہ دوست احمدیوں کے علاوہ غیر احمدیوں میں بھی ایک واجب الاحترام شخصیت تھے۔غالباً 1996ء کی بات ہے، گیمبیا میں ایک معاند احمدیت نے ریڈیو گیمبیا پر جماعت کے خلاف پروگرام کرنے شروع کئے۔چکنی صاحب نے بھی ان کے جوابات دیئے۔مخالفین حق کا کوا تو سفید ہی ہوتا ہے۔انہیں مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔اس پر مکرم ابراہیم صاحب نے اس مولوی کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا۔اللہ تعالیٰ کی شان کہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ مولوی سخت بیمار ہو گیا۔اس کی بیماری کی کیفیت بھی عجیب تھی کہ کسی کو اس کی سمجھ نہیں آتی تھی۔مختلف مقامات پر علاج کے لئے اسے لے کر گئے۔جسمانی بیماری سے زیادہ کوئی نفسیاتی بیماری ہوگئی تھی اور پھر چند ماہ بعد وہ فوت ہو گیا۔ایک دن میں دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ابراہیم جلکنی صاحب تشریف لے آئے۔ان کی رہائش ایک گاؤں میں تھی جو بانجول سے دوصد میل سے زائد فاصلہ پر تھا۔بڑے اچھے لباس میں 85