ارضِ بلال

by Other Authors

Page 51 of 336

ارضِ بلال — Page 51

ارض بلال۔میری یادیں پلاسٹک کی ایک چٹائی ہمارے احترام میں زمین پر بچھا دی اور ہم لوگ اس پر لیٹ گئے۔جانوروں کی آوزیں ، کھیت کا حبس، مچھروں نے بھی اپنے اپنے خیالات موسیقی بجا کر سنائے۔ان سے محظوظ ہوتے ہوتے سوتے جاگتے رات گزرگئی۔شب تنور گذشت شب سمور گذشت۔ریڑھے کا دلچسپ سفر اس کے بعد اگلی صبح ایک اور گاؤں میں جانا تھا۔اس گاؤں کا نام سارِ بُنگاری تھا۔ہمارے میزبان نے وہاں جانے کے لئے ریڑھے کا انتظام کیا۔پھر ہم دونوں اپنے میزبان کے ہمراہ سار بنگاری پہنچے۔یہ کچھ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں پر مشتمل ایک مختصر سا گاؤں ہے۔ادھر مکرم بیجی سوہ صاحب کے گھر پہنچے۔اس گاؤں میں صرف تین ہی احمدی دوست تھے۔اس گاؤں میں چند دن ہم لوگوں نے گزارے۔کئی بار لوگوں سے تبلیغی بات چیت ہوئی۔سب گاؤں والوں نے ہمارا بہت احترام کیا۔ہماری باتوں کو دلچسپی سے سنا۔ہر وقت کوئی نہ کوئی دیہاتی میرے پاس رہتا۔انکی ساری زندگی میں شاید ، میں پہلا غیر ملکی تھا جس نے ان سے بات چیت کی ہوگی یا ان کے ساتھ کھانا کھایا ہوگا۔وہاں ہر کھانے میں خواہ ناشتہ ، دو پہر یا شام کا کھانا ہو، ایک ہی ڈش تھی۔یعنی باجرے اور دودھ کے ساتھ ہی وہ ہماری خاطر مدارت کرتے۔بہر حال جو ان کے پاس میسر تھا، بخوشی پیش کر رہے تھے۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ گاؤں میرا پسندیدہ گاؤں بن گیا۔زندگی میں بہت دفعہ وہاں راتیں بسر کیں۔اب تقریباً سارا گاؤں احمدی ہے۔ایک معلم صاحب ادھر رہتے ہیں اور ایک مسجد بھی ہے۔نیچے میں آمد اس کے بعد ہماری اگلی منزل نیچے تھی۔یہ گاؤں ملک کی ایک شاہراہ پر واقع ہے۔اس جگہ پر ایک عربی استاذ مکرم سالی جابی صاحب رہتے تھے۔ان کے علاوہ مکرم علیو سوہ صاحب فوٹوگرافر اور ایک دوست بیروم باه صاحب بھی رہتے تھے۔ان سب سے ملاقات ہوئی۔حسب توفیق ان کو جماعت 51