ارضِ بلال

by Other Authors

Page 52 of 336

ارضِ بلال — Page 52

ارض بلال- میری یادیں ) کے بارے میں بتایا۔ادھر بھی چند دن گزارے اور پھر اگلی منزل کو روانہ ہو گئے۔اب خدا تعالی کے فضل سے اس گاؤں میں ایک بڑی مخلص جماعت ہے جس کی اپنی ایک بڑی ہی خوبصورت مسجد ہے۔اس گاؤں میں احمدیت کا کمزور سا پودا بفضل الہی ایک تناور شجر بن چکا ہے۔مبور MBOUR میں آمد حسب پروگرام اب ہماری نئی منزل مبور شہر تھا۔اس کے لئے ہم نے ایک لوکل ٹرانسپورٹ لی جس کی مدد سے کولخ آگئے۔اس کے بعد سینیگال کے مشہور شہر مبور میں پہنچے۔یہ شہر سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔اس لئے اس کی آب و ہوا بہت ہی خوبصورت ہے۔یہاں آکر لگتا ہے کہ اب ہم افریقہ میں نہیں ہیں بلکہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔یہ ہوٹلوں کا شہر ہے۔اس میں بہت ہی اعلی قسم کے بڑے بڑے عالیشان ہوٹل ہیں۔ان ہوٹلوں کے مالکان تو یورپین لوگ ہیں لیکن کارندے افریقن ہیں۔ہر طرف یورپین سیاح آپ کو آتے جاتے نظر آتے ہیں۔اس شہر میں مکرم حمد باہ کے برادر اصغر موسیٰ باہ صاحب بھی رہتے ہیں جو ابھی تک محکمہ زراعت میں بطور ڈرائیور ملازم ہیں۔ہم لوگ ان کے گھر پہنچے درمیانہ سامکان تھا۔کمرے میں شہری مکانوں کی طرح کرسیاں میز وغیرہ بھی تھے۔جونہی ہم لوگ ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے دیوار پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی فریم شدہ تصویر آویزاں تھی۔اس تصویر کو دیکھ کر دل کو اتنی مسرت ہوئی کہ ساری تھکاوٹ دور ہو گئی۔یہاں مکرم موسی باہ صاحب نے ہماری خوب خاطر مدارت کی ، ہمارا بہت خیال رکھا، حسب توفیق اچھا کھانا پیش کیا۔اس دورہ کے دوران یہاں پہلی بار باجرے اور دودھ کے علاوہ کچھ اور کھانے کو ملا۔نہانے کے لئے پانی بھی وافر ملا۔اس لئے خوب نہائے ، کپڑے دھوئے۔ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے ان کا صحن بھی ریتلا تھا۔یہاں پر نہ گرمی تھی۔اور نہ ہی مچھر مکھی صحن میں ہم لوگ گدا ڈال کر لیٹ گئے۔بہت پر لطف نیند آئی۔52