ارضِ بلال — Page 314
ارض بلال- میری یادیں ) نے ایک رقعہ انکے نام لکھا۔جس میں میرا تعارف کرایا اور جہلم بھجوانے کی غرض بیان فرمائی۔اگلے روز میں جہلم کے سرکاری ہسپتال میں پہنچ گیا۔مکرم ڈاکٹر صاحب کے دفتر کا پوچھ کر وہاں پہنچ گیا۔دربان نے اند جانے سے روکا تو میں نے دربان کو وہ خط دیا اور کہا کہ از راہ کرم ڈاکٹر صاحب کو پہنچا دیں۔ڈاکٹر صاحب نے فوراً اندر بلا لیا۔بڑے پیار اور شفقت سے پیش آئے۔ایک اہلکار کو بلا کر اس کو میرے بارہ میں ہدایات دیں کہ فوراً اس نوجوان کو ہسپتال میں داخل کر لیں اور فلاں فلاں ٹیسٹ لے کر فوری رپورٹ کریں۔خاکسارصرف چیک اپ کی غرض سے ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا تھا۔خیال تھا کہ دو دن کے بعد واپس گھر آ جاؤں گا۔یہ بات ڈاکٹر صاحب کو عرض کی کہ اجازت دیں میں گھر جا کر کسی عزیز کو ساتھ لے آؤں جو میری دیکھ بھال کرے گا، نیز اپنے والدین کو ساری صورت حال سے بھی آگاہ کر دوں گا۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کسی ذریعہ سے اپنے گھر اطلاع کر دیں کہ میں ہسپتال میں داخل ہو گیا ہوں اور کسی کو ساتھ لانے کی ضرورت نہیں۔فرمایا یہاں پر میں تمہارا سب کچھ ہوں۔میں تمہاری دیکھ بھال کروں گا۔تمہارا کھانا میرے گھر سے نوکر لے کر آیا کرے گا۔اگر دل چاہے تو گھر پر آکر کھانا کھالیا کریں۔خیر ڈاکٹر صاحب کے اس حسن سلوک، پیار و محبت جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے، نے مجھے وہاں روک لیا۔دس روز تک خصوصی علاج کیا گیا ، چیک اپ روزانہ کیا جاتا۔کئی بار ٹیسٹ لیے گئے۔دوائیاں وافر دی گئیں۔خوراک بہت اچھی مل رہی تھی جو ڈاکٹر صاحب کے گھر سے آتی تھی اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور ڈاکٹر صاحب کی محنت اور کوشش نے بیماری میں خاصی کمی کر دی۔ایک روز ایک دوسرے ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب کیا آپ کے کوئی قریبی عزیز ہیں جو اس قدر آپ کا خیال رکھتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ ہاں بہت بڑا 314