ارضِ بلال — Page 315
ارض بلال۔میری یادیں رشتہ ہے جو عام رشتوں سے بہت بالا ہے۔اس طرح ان دو فرشتہ سیرت بزرگوں کی ہمدردی و رہنمائی اور کوشش سے اللہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی اور تقریباً دوماہ کے علاج کے بعد میں بالکل صحیح ہو گیا۔الحمد للہ اس دوران سوائے کرایہ کے میرے کوئی اخراجات نہیں ہوئے۔راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو خاکسار 1983 سے لیکر 2008 تک لگاتار گیمبیا اور سینیگال وغیرہ میں ہی رہا۔پردیس میں گزرے ہوئے ان پچیس سال سے زائد عرصہ میں مجھے اپنے خاندان کی کسی بھی شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع نہیں ملا۔ظاہر ہے کا ئنات میں موت وحیات کا سلسلہ جاری وساری ہے۔اس عرصہ میں میرے والدین، میری اہلیہ محترمہ کے والدین اور ان کے علاوہ ہمارے خاندان کے بہت سے بزرگ ، جماعت کے بزرگ اور کئی دوست احباب اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ہم ان کے جنازوں میں شریک نہیں ہو سکے۔والدہ محترمہ کی وفات کا دلخراش حادثہ 1997ء میں رخصت پر پاکستان گیا ہوا تھا ( یہ وہ ایام تھے جب گیمبیا سے مرکزی کارکنان کو ہجرت کرنی پڑی تھی) ان دنوں میرے والدین جرمنی میں تھے۔چند ماہ بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ارشاد پر خاکسار کو فوری طور پر گیمبیا پہنچنے کا ارشاد ہوا جس کی تعمیل میں واپس گیمبیا آ گیا اور میری آمد کے تھوڑے عرصہ بعد ہی والدین بھی پاکستان آگئے۔اس طرح ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔پاکستان آمد کے چند ماہ بعد ہی والدہ محترمہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔جس دن والدہ صاحبہ کا انتقال ہوا میں سینیگال کے شہر ڈاکار میں تھا۔پاکستان کا ٹائم سینیگال سے پانچ گھنٹے آگے ہے۔والدہ صاحبہ کی وفات صبح کے وقت ہوئی۔سینیگال میں اس وقت نصف شب کے لمحات تھے۔اس لئے جب مجھے ان کی اندوہناک وفات کا علم ہوا، اس وقت 315