ارضِ بلال — Page 310
ارض بلال۔میری یادیں۔۔۔۔۔باب هشت ده۔۔۔۔۔]۔۔)] مصنف کی ذاتی زندگی سے چند واقعات خاکسار اور وقف زندگی والدہ صاحبہ بتایا کرتی تھیں کہ میں شاید دو سال کا تھا۔ایک روز سخت بیمار ہوگیا۔بیماری کا حملہ اتنا شدید تھا کہ لگتا تھا کہ بس آخری وقت آ گیا ہے۔گھر پر والدہ محترمہ اکیلی تھیں۔والد صاحب اور دادا جان کھیتوں پر تھے۔والدہ صاحبہ نے محلے سے ایک آدمی کو والد صاحب کے پاس باہر زمینوں پر پیغام دے کر بھجوایا کہ جلدی گھر آجائیں ، بچے کی طبیعت بہت ناساز اور مخدوش ہے۔خیر والد صاحب اور دادا جان جلدی سے گھر آگئے۔میری کیفیت خاصی مایوسی اور پریشان کن تھی۔دادا جان حضرت مسیح پاک کے صحابی تھے۔بہت دُعا گو ہستی تھے۔نیکی ،تقوی میں ان کا بڑا نام تھا۔انہوں نے میری والدہ صاحبہ اور والد صاحب سے فرمایا کہ اگر آپ اس بچہ کی زندگی چاہتے ہیں تو اس بچہ کو آپ اللہ تعالی کے رستہ میں وقف کر دیں۔اللہ تعالی خود ہی اس کی صحت کے انتظامات فرمادے گا۔اس پر دونوں میاں بیوی نے باہم عہد کر لیا کہ ہم اس بچہ کو خدا تعالی کی راہ میں وقف کر دیں گے۔پھر خدا تعالی کے فضل سے انہوں نے اس عہد کو باوجود نا مساعد حالات و مشکلات کے نبھایا۔فجزاهم الله احسن الجزاء مسبب الاسباب نے اپنے حضور سے شفا کے سامان پیدا فرما دیئے اللہ تعالیٰ کا ایسا کرنا ہؤا کہ دادا جان کسی کام کی غرض سے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے ایک قریبی گاؤں عالم گڑھ کے ایک حکیم صاحب جن کا نام خدا بخش تھا، گھوڑی پر سوار ہماری گلی میں سے گزر رہے ہیں۔جب دادا جان کے قریب پہنچے حکیم صاحب نے دادا جان کو سلام کیا اور 310