ارضِ بلال

by Other Authors

Page 249 of 336

ارضِ بلال — Page 249

بہت خوش ہوئے۔۔میری یادیں بعد ازاں حضور ا گلے سفر کے لئے اپنی کار میں تشریف لے آئے۔میں بھی کار کے پاس کھڑا تھا۔حضور نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور بغیر گنے کچھ ڈالرز خاکسار کے ہاتھ میں تھما دیے اور فرمایا اس کی مٹھائی کھائیں اور باقیوں کو بھی کھلائیں۔آج تک یہ شفقت اور ذرہ نوازی کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے اور سرمایہ حیات ہے۔وصال حضرت خلیفہ امسیح الرابع چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایک دن ہر کوئی مجبور ہے حکم خدا کے سامنے 2003ء کی بات ہے۔سینیگال کے علاقہ نیورو کے گاؤں سار ماری میں ریجنل جلسہ منعقد کرنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔اس سلسلہ میں تقریباً چالیس دیہات میں اطلاعات کی گئیں۔جلسہ سے صرف دو دن قبل مجھے ایک دوست نے یہ بتایا کہ جس مقام پر ہمارا جلسے کا پروگرام ہے۔اس کے قریب ہی سینیگال کی ایک مسلم مذہبی تنظیم جن کو مرید کہتے ہیں، یہ لوگ وہاں پر ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کر رہے ہیں۔یہ سینیگال کی مضبوط ترین جماعت ہے۔اس جماعت کے بانی ایک بزرگ احمد بامبا صاحب تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کے ہاں خلافت کا نظام جاری ہے۔لیکن خلافت خاندانی وراثت کی مانند ہے۔یہ ایک شدت پسند جماعت ہے۔حکومتیں تک انہی کے تعاون سے بنتی ہیں۔موجودہ سربراہ مملکت سینیگال عبد اللہ وڈ صاحب جب سر براہ مملکت بنے تو سب سے پہلے اس جماعت کے خلیفہ صاحب کے حضور حاضر ہوئے اور وہاں جا کر پیر صاحب کے دربار میں ان کے قدموں میں بیٹھے رہے ان کی یہ تصویر ملک بھر کے اخبارات کی زینت بنی۔اس لئے حکمت یہی تھی کہ ہم اپنا جلسہ فی الحال کسی اور مناسب تاریخ تک ملتوی کر دیں تا کہ کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہو۔اس لئے فوری طور پر جلسہ کے التوا کی جملہ مقامات پر اطلاعات کر دی 249