ارضِ بلال — Page 250
گئیں۔ارض بلال۔میری یادیں جلسہ کا پروگرام ملتوی ہونے کے باعث میں اب اپنے مستقر ڈا کار میں ہی تھا اور اتفاق سے دفتر ہی میں بیٹھا ہوا تھا کہ لندن سے عزیزم عطاء القدیر کا فون آیا۔اس نے روتے ہوئے بتایا کہ حضور اقدس اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔انا للہ واناالیہ راجعون۔دفتر میں چند معلمین بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ان سب کو میں نے یہ دلخراش خبر سنائی جس پر سب ہی بہت دکھی ہو گئے۔جب حضور کی وفات کی خبر مکرم سالی صاحب ( معلم ) نے سنی تو بیچارے شدت غم سے زمین پر گر گئے۔کافی دیر تک اس تکلیف دہ کیفیت میں رہے۔موصوف جلسہ سالانہ لندن میں شریک ہوئے تھے ، حضور سے ملے تھے۔آپ کی ذات اقدس کے فدائی بن گئے تھے۔اب یہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔آمین۔ایک خواب جو حقیقت بن گیا جب مجھے حضور کے وصال کی خبر ملی تو میں نے ملک بھر میں جماعتی مراکز اور بعض دیگر احباب جماعت کو اس افسوسناک سانحہ کی اطلاع دی۔آنریبل کا بنے کا باڈا کار میں ہی تھے ، وہ فوری طور پر میرے پاس تشریف لے آئے اور انہوں نے بتایا کہ آج صبح میرے بڑے بیٹے نے مجھے اپنا ایک خواب بتایا ہے۔خواب کچھ یوں ہے کہ کوئی آدمی مجھے بتا رہا ہے کہ آپ کے ایک بزرگ رہنما فوت ہو گئے ہیں اور اس کے تھوڑی دیر بعد ہی مجھے آپ کا حضور کی وفات کے بارے میں فون مل گیا۔طاہر احمد کی پیدائش بعض افریقن ممالک میں یہ طریق ہے کہ لوگ اپنے بچوں کے نام اپنے پیاروں کے نام پر رکھتے ہیں، خواہ وہ خاندانی رشتہ سے ہوں یا روحانی تعلق سے ہوں۔جس روز حضور انور کا وصال 250