ارضِ بلال

by Other Authors

Page 135 of 336

ارضِ بلال — Page 135

ارض بلال۔میری یادیں ) جاسکیں۔چنانچہ بفضلہ تعالیٰ اب وہاں پر ایک مسجد ، مشن ہاؤس اور ایک خوبصورت گیسٹ ہاوٹس تعمیر ہو چکا ہے۔ان دنوں خاکسار فرافینی میں بطور مربی سلسلہ خدمت سرانجام دے رہا تھا۔میں نے جماعت میں تحریک کی کہ خانہ خدا کی تعمیر کے لئے ہر کوئی اپنی حیثیت سے بڑھ کر حصہ لے۔اس دور میں مرکز سے تعمیر مسجد کے لئے کوئی خاص مدد نہ ملتی تھی بلکہ احباب جماعت کی مالی قربانی سے یہ کام ہوتا تھا۔میں نے سب احباب جماعت کو اجتماعی اور انفرادی طور پر اس کارخیر میں حصہ لینے کی درخواست کی۔اسی شب ایک مخلص نوجوان مکرم فوڈے صابالی صاحب جو بازار میں درزی کا کام کرتے تھے اور دوران ہفتہ کپڑے سی کر ہر ہفتہ کو ایک قریبی قصبہ میں ہفتہ وار مارکیٹ میں لے جایا کرتے تھے۔ذریعہ معاش بہت معمولی ساتھا وہ میرے گھر تشریف لائے اور کہنے لگے استاذ ( مبلغ ) میں مسجد کے لئے کچھ رقم پیش کرنا چاہتا ہوں۔میرے خیال میں تھا کہ یہ نوجوان ممکن ہے پچاس یا سوڈلاسی ( گیمبین کرنسی ) کی رقم دے گا مگر میں نے دیکھا کہ اس نے پورے ایک ہزار ڈلاسی کی رقم میرے سامنے رکھ دی۔میں نے وہ رقم سیکرٹری مال مکرم ڈکٹر خلیل ین گاڈ و صاحب کو دے دی۔لیکن اس شخص کی گھر یلو اور مالی کیفیت دیکھ کر یقین نہ آتا تھا۔میں نے خود حیرانگی سے اسے پوچھا یہ سوچتے ہوئے شاید اسے غلطی لگ رہی ہے کہ اس ساری کی رسید کاٹنی ہے؟ اس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا اور ساتھ کہنے لگے کہ میں نے گھر میں ایک ہزار ڈلاسی کی رقم کسی غرض کے لئے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔آج آپ نے مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک کی ہے۔اس پر میں نے سوچا میں اللہ کا کام کرتا ہوں، اللہ خود میرا کام کر دے گا۔اس واقعہ کے چند روز بعد مجھے شام کی نماز پر ملے، بڑے خوش تھے کہنے لگے، استاذ ! اللہ تعالیٰ 135